بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
شروع کرتا ہوں الله کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے
الۤمّۤصۤ
الٓمّصٓ ۔
كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ فَلَا يَكُنۡ فِىۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّنۡهُ لِتُنۡذِرَ بِهٖ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ
یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ (لوگوں کو ) ڈرائیں پس اس سے آپکے دل میں تنگی نہیں ہونی چاہئے اوریہ ایمان والوں کیلئے نصیحت ہے
اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ‌ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ
تم لوگ اس (قرآن ) کی اتباع کرو جوتمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس پھیجا گیا ہے اور اسکے سوا دوسرے دوستوں کی اتباع نہ کرو ۔ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت سنتے ہو
وَكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَـكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآٮِٕلُوۡنَ
اوربہت سی بستیوں کو ہم نے ہلاک کرڈالا جن پر ہمارا عذاب رات کے وقت (جبکہ وہ سوتے تھے ) آیا یادوپہر کے وقت (جب کہ وہ قیلولہ کرتے تھے )
فَمَا كَانَ دَعۡوٰٮهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ
سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا تو انکے منھ سے بجز اس کے اورکوئی بات نہ نکلتی تھی کہ بے شک ہم ہی ظالم تھے ۔
فَلَنَسۡــَٔــلَنَّ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ وَلَـنَسۡـَٔـــلَنَّ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۙ
پس جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے تھے ہم ان سے بھی پوچھیں گے اورپیغمبروں سے بھی دریافت کریں گے۔
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ بِعِلۡمٍ وَّمَا كُنَّا غَآٮِٕبِيۡنَ
پھر ہم ان پر تمام حالات اپنے علم کے ساتھ بیان کریں گے اورہم غائب تونہیں تھے
وَالۡوَزۡنُ يَوۡمَٮِٕذِۨ الۡحَـقُّ‌ ۚ فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ فَاُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ
اوراس دن اعمال کا وزن برحق ہے پس جن لوگوں کے اعمال کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ نجاتپانے والے ہیں ۔
وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ فَاُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَظۡلِمُوۡنَ
اور جن کے اعمال کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ نانصافی کرتے تھے
وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَـكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ
اورہم نے تم کو زمین میں بسایا اور اس میں تمہارے لئے روزی کا سامان مہیا کیا ۔ مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو ۔
وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ‌ ۖ  فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ لَمۡ يَكُنۡ مِّنَ السّٰجِدِيۡنَ
اور ہم نے تم کو (مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کوحکم دیا کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو پس سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ۔
‌قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُكَ‌ ؕ قَالَ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡهُ‌ ۚ خَلَقۡتَنِىۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ
اللہ نے کہا تونے جو سجدہ نہیں کیا ۔ کون چیز تجھے مانع ہوئی جبکہ میں نے تجھے حکم دیا جواب دیا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے خاک سے پیدا کیا ۔
قَالَ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا فَمَا يَكُوۡنُ لَـكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ
فرمایا یہاں (آسمان یا بہشت ) سے اتر جا تجھے حق نہیں پہنچتا کہ یہاں تکبر سے کام لے پس نکل جا تو ذلیل ہے۔
قَالَ اَنۡظِرۡنِىۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ
اس نے کہامجھے اس دن تک مہلت عطا کر جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے
قَالَ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ
فرمایا ۔ اچھا تجھے مہلت دی جاتی ہے ۔
قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِىۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَۙ
اس نے کہا اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کردیا ہے میں بھی تیرے سیدھے راستے پر ان کے لئے (گھات لگائے ) بیٹھوں گا
ثُمَّ لَاَتِيَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ اَيۡمَانِهِمۡ وَعَنۡ شَمَآٮِٕلِهِمۡ‌ؕ وَلَاٰ تَجِدُ اَكۡثَرَهُمۡ شٰكِرِيۡنَ
پھر میں ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے اوران کے پیچھے سے اوران کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے اورتو ان میں کے اکثر کو شکر گذار نہ پائے گا
قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡهَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ‌ؕ لَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ لَاَمۡلَــٴَــنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ
فرمایا نکل جا یہاں سےذلیل و خوار ہوکر ان میں سے جوتیری پیروی کریں گے میں ضرور تم سے جہنم بھردوں گا۔
وَيٰۤاٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَـنَّةَ فَـكُلَا مِنۡ حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ
اور ہم نے آدم سے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اورتم دونوں جہاں سے چاہو کھاؤ مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ گنہ گار ہوجاؤگے۔
فَوَسۡوَسَ لَهُمَا الشَّيۡطٰنُ لِيُبۡدِىَ لَهُمَا مَا وٗرِىَ عَنۡهُمَا مِنۡ سَوۡاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهٰٮكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَـكَيۡنِ اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِيۡنَ
پھر شیطان نے ان دونوں کو بہکایا تاکہ ان دونوں کی شرمگاہیں جوایک دوسرے سے چھپائے ہوئے تھے ان کے روبرو کھول دے اور کہا تمہارے رب نے تم دونوں کواس درخت کے پاس جانے سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ یا تم کو ہمیشگی کی زندگی نہ مل جائے۔
وَقَاسَمَهُمَاۤ اِنِّىۡ لَـكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَۙ
اور دونوں سے قسم کھاکر کہا کہ میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں ۔
فَدَلّٰٮهُمَا بِغُرُوۡرٍ‌ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡءٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفٰنِ عَلَيۡهِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَـنَّةِ‌ ؕ وَنَادٰٮهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَـكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ
غرض اس نے دھوکے سے ان دونوں کو نیچے کھینچ ہی لیا آخرکار جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان کی شرم گاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھل گئیں اور جنت (کے درختوں ) کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے (اور اپنے ستر چھپانے لگے ) تب ان کے رب نے انہیں پکارا اور کہا کیا میں نے تم کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اورکیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا؄ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَـنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَـنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
دونوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا ، اگر توہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہمارا بڑا نقصان ہوگا۔
قَالَ اهۡبِطُوۡا بَعۡضُكُمۡ لِبَـعۡضٍ عَدُوٌّ‌ ۚ وَلَـكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ
فرمایا نیچے اتر جاؤ (اس حالت میں کہ ) تم ایک دوسرے کےدشمن رہو گے تمہارے لئے زمین میں ایک خاص مدت تک رہنے کی جگہ اور زندگی کا سامان ہے۔
قَالَ فِيۡهَا تَحۡيَوۡنَ وَفِيۡهَا تَمُوۡتُوۡنَ وَمِنۡهَا تُخۡرَجُوۡنَ
اور فرمایا اسی میں تم کو جینا ہے اوراسی میں تم کو مرنا ہے اور وہیں سے تم (قبروں سے ) نکالے جاؤ گے
يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسًا يُّوَارِىۡ سَوۡاٰتِكُمۡ وَرِيۡشًا‌ ؕ وَلِبَاسُ التَّقۡوٰى ۙ ذٰلِكَ خَيۡرٌ‌ ؕ ذٰلِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُوۡنَ
اے بنی آدم ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا جو تمہارا ستر ڈھانکتا ہے اور باعث ِ زینت بھی ہے اور پرہیز گاری کا لباس (اس کا کیا کہنا ) وہ تو بہتر ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَـنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَـنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡءاٰتِهِمَا ؕ اِنَّهٗ يَرٰٮكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ‌ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ
اے بنی آدم کہیں تمہیں بھی شیطان فتنہ میں مبتلا نہ کردے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کرادیا (اس حالت میں ) ان سے ان کے لباس اتروادئے تھے تاکہ ان کی شرمگاہیں ان کے سامنے کھول کر دکھادے ۔ وہ اور اسکے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو دیکھ نہیں سکتے ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنادیا ہے جو ایمان نہیں رکھتے ۔
وَاِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَيۡهَاۤ اٰبَآءَنَا وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا‌ ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ‌ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ
اور جب وہ کوئی برا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کواسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے (بھی ) ہمیں اسی کا حکم دیا ہے ۔ آپ کہدیجئے کہ اللہ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے۔
قُلۡ اَمَرَ رَبِّىۡ بِالۡقِسۡطِ‌ وَاَقِيۡمُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ‌   ؕ كَمَا بَدَاَكُمۡ تَعُوۡدُوۡنَؕ
آپ کہدیجئے کہ میرے رب نے تو مجھے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ تم اپنی نماز میں اپنا رخ سیدھا (قبلہ کی طرف ) رکھو اوراپنے دین کو خالص اسی کے لئے کرتے ہوئے اس کو پکارو جس طرح اس نے تم کو ابتداء میں پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
فَرِيۡقًا هَدٰى وَ فَرِيۡقًا حَقَّ عَلَيۡهِمُ الضَّلٰلَةُ ‌ ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ
بعض لوگوں کو تو اس نے ہدایت دی اور بعض لوگوں پر گمراہی ثابت ہوچکی ۔ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا دوست بنالیا ہے اوروہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں
يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِيۡنَتَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا‌ ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ
اے بنی آدم ہر نماز کے وقت اپنے آپ کو (لباس سے ) مزین کرلو اورکھاؤ اورپیو اور حد سے آگے مت بڑھو (کیونکہ ) اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِيۡنَةَ اللّٰهِ الَّتِىۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ‌ؕ قُلۡ هِىَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا خَالِصَةً يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ
آپ انسے پوچھئے کہ اس زینت (لباس ) کوجسے اللہ نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کیاہے اورکھانے پینے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے حرام کیا ہے ۔ آپ کہدیجئے کہ یہ چیزیں دنیوی زندگی میں ایمان والوں کے لئے ہیں اور قیامت کے دن خالص ان ہی کا حصہ ہیں اسی طرح ہم آیتوں کوسمجھ رکھنے والوں کے لئے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ الۡـفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَالۡبَـغۡىَ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ وَاَنۡ تُشۡرِكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ
آپ کہدیجئے کہ میرے پروردگار نے تو بے حیائی کے کاموں کو خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام قرار دیا ہے اوراس کو بھی کہ تم کسی کوخدا کا شریک بناؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اوریہ بھی کہ تم اللہ کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں ۔
وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ‌ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَةً‌ وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ
ہر قوم کے لئے (موت کا ) ایک وقت مقرر ہے پس جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اورنہ آگے بڑھ سکیں گے
يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ اِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِىۡ‌ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ
اے بنی آدم (روزِ میثاق ہم تم سے عہد لے چکے ہیں ) کہ اگر تمہارے پاس خود تم میں سے ایسے پیغمبر آئیں جو تم کو ہماری آیتیں سنائیں (تو تم ان پر ایمان لاؤ ) پس جو لوگ اللہ سے ڈریں اوراپنی حالت کی اصلاح کرلیں تو ایسے لوگوں کیلئے نہ کچھ خوف ہوگااور نہ وہ مغموم ہوں گے
وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاسۡتَكۡبَرُوۡا عَنۡهَاۤ اُولٰۤٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اوران سے سرتابی کی وہی دوزخ والے ہیں جس میں وہ ہمیشہرہیں گے۔
فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ؕ اُولٰۤٮِٕكَ يَنَالُهُمۡ نَصِيۡبُهُمۡ مِّنَ الۡـكِتٰبِ‌ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُـنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَشَهِدُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ
پس اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اللہ کی آیتوں کوجھٹلائے یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کو ان کےنصیب کا لکھا ہوا ملے گا۔ یہاں تک کہ جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی جان نکالنے کے لئے ان کے پاس پہنچ جائیں گے تو کہیں گے کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے وہ کہیں گے وہ سب ہم سے غائب ہوگئے اور وہ اقرار کرلیں گے کہ وہ کافر ہیں ۔
قَالَ ادۡخُلُوۡا فِىۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ فِى النَّارِ‌ ؕ كُلَّمَا دَخَلَتۡ اُمَّةٌ لَّعَنَتۡ اُخۡتَهَا‌ ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوۡا فِيۡهَا جَمِيۡعًا ۙ قَالَتۡ اُخۡرٰٮهُمۡ لِاُوۡلٰٮهُمۡ رَبَّنَا هٰٓؤُلَۤاءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ‌  ؕ قَالَ لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ
اللہ فرمائے گا کہ جنات اورانسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے گذر چکی ہیں ان میں شامل ہوکر تم بھی جہنم میں داخل ہوجاؤ جب بھی ایک جماعت جہنم میں داخل ہوگی تو وہ اپنی جیسی دوسری جماعت پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے تو بعد کی جماعت پہلی جماعت کی طرف اشارہ کرکے کہے گی اے ہمارے رب ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیاتھا توان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے اللہ فرمائے گا دونوں کے لئے دگنا ہی عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔
وَقَالَتۡ اُوۡلٰٮهُمۡ لِاُخۡرٰٮهُمۡ فَمَا كَانَ لَـكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ
اورپہلی جماعت دوسری جماعت سے کہے گی تم کو ہم پر کونسی فضیلت حاصل تھی پس جو عمل کرتے تھے اس کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو
اِنَّ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاسۡتَكۡبَرُوۡا عَنۡهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ حَتّٰى يَلِجَ الۡجَمَلُ فِىۡ سَمِّ الۡخِيَاطِ‌ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُجۡرِمِيۡنَ
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اوروہ جنت میں بھی داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ گھس جائے اور اسی طرح ہم مجرموں کوسزادیتے ہیں ۔
لَهُمۡ مِّنۡ جَهَـنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ‌ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الظّٰلِمِيۡنَ
ایسے لوگوں کے لئے آگ کا بچھونا ہوگا اوران کو اوڑھنا بھی آگ ہی کا ہوگا اور اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں ۔
وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُـكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَاۤ  اُولٰۤٮِٕكَ اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ
اور جو لوگ ایمان لائے اورعمل صالح کرتے رہے ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ایسے لوگ جنتی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
وَنَزَعۡنَا مَا فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ‌ۚ وَقَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ هَدٰٮنَا لِهٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِىَ لَوۡلَاۤ اَنۡ هَدٰٮنَا اللّٰهُ‌ ‌ۚ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَـقِّ‌ ؕ وَنُوۡدُوۡۤا اَنۡ تِلۡكُمُ الۡجَـنَّةُ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ
اورہم ان کے سینوں میں جو کینے تھے ان کو نکال ڈالیں گے ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا ۔ اگر وہ ہماری رہبری نہ کرتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ سکتے بے شک ہمارے پرودگار کے پیغمبر حق بات لیکر آئے تھے اور ندا کردی جائے گی کہ تمہارے اعمال کے سبب اس جنت کے تم وارثبنادیئے گئے
وَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ اَصۡحٰبَ النَّارِ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدْتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا‌ ؕ قَالُوۡا نَـعَمۡ‌ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّـعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ
اور اہل جنت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے ہمارے رب نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا اسے ہم نے سچا پایا ۔ پس کیا تمہارے پروردگار نے تم سے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچا پایا ۔ وہ کہیں گے ہاں ۔ پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ان ظالموں پر ہو۔
الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَـبۡـغُوۡنَهَا عِوَجًا‌ ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ‌ۘ
جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے تھے اور اس میں کجی ڈھونڈتے تھے ۔ اور وہ آخرت سے انکار کرتے تھے۔
وَبَيۡنَهُمَا حِجَابٌ‌ۚ وَعَلَى الۡاَعۡرَافِ رِجَالٌ يَّعۡرِفُوۡنَ كُلًّاۢ بِسِيۡمٰٮهُمۡ‌ ۚ وَنَادَوۡا اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ اَنۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ‌ لَمۡ يَدۡخُلُوۡهَا وَهُمۡ يَطۡمَعُوۡنَ
اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی اوراعراف کے اوپر بہت سے لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو اس کی علامت سے پہچان لیں گے تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو ۔ یہ لوگ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کے امیدوار ہوں گے۔
وَاِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُهُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰبِ النَّارِۙ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ
اور جب ان کی نگاہیں دوزخیوں کی طرف پلٹیں گی تو عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالموں میں شمار نہ کیجو
وَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا يَّعۡرِفُوۡنَهُمۡ بِسِيۡمٰٮهُمۡ قَالُوۡا مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡكُمۡ جَمۡعُكُمۡ وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ
اوراہل اعراف بہت سے لوگوں کو جنہیں وہ ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے پکار یں گے اورکہیں گے (آج ) نہ تو تمہاری جماعت ہی کام آئی اورنہ تمہارا تکبر ہی (سود مند ہوا)
اَهٰٓؤُلَۤاءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ ‌ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ
کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھاکر یہ کہتے تھے کہ اللہ ان پر رحمت نہ کرے گا (حالانکہ ان سے کہا جارہا ہے )تم جنت میں داخل ہوجاؤ تمہیں نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ تم رنجیدہ ہوں گے
وَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ النَّارِ اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ‌ؕ قَالُـوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡـكٰفِرِيۡنَ ۙ
اور دوزخی اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ ہم پر تھوڑا سا پانی ڈال دو یا اسی میں سے کچھ دے دو جو اللہ نے تم کو عنایت کیا ہے وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے تو کافروں پر (جنت کا پانی اور کھانا ) دونوں کو حرام کردیا ہے۔
الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا دِيۡنَهُمۡ لَهۡوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا‌‌ ۚ فَالۡيَوۡمَ نَنۡسٰٮهُمۡ كَمَا نَسُوۡا لِقَآءَ يَوۡمِهِمۡ هٰذَا ۙ وَمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ
جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشہ بنالیا تھا اور جن کو دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے پس آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح کہ وہ آج کے اس دن کے آنے کو بھول گئے تھے اورہماری آیتوں کا انکار کررہے تھے
وَلَقَدۡ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ
اورہم نے ان کے پاس ایک ایسی کتاب بھیجدی ہے جسے ہم نے علم کی بناء پر مفصل بیان کیا ہے اور وہ ہدایت کا ذریعہ اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ۔
هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِيۡلَهٗ‌ؕ يَوۡمَ يَاۡتِىۡ تَاۡوِيۡلُهٗ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ نَسُوۡهُ مِنۡ قَبۡلُ قَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَـقِّ‌ۚ فَهَلْ لَّـنَا مِنۡ شُفَعَآءَ فَيَشۡفَعُوۡا لَـنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ الَّذِىۡ كُنَّا نَـعۡمَلُ‌ؕ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ
کیا ان کو صرف اس کے انجام کا انتظار ہے جس دن وہ انجام ان کے سامنے آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے بول اٹھیں گے کہ بے شک ہمارے پروردگار کے پیغمبر حق بات لے کر آئے تھے بھلا (آج) ہمارے لئے کوئی سفارشی ہیں جو ہماری سفارش کرسکیں یا پھر ہم کو دنیا میں ہی لوٹا دیا جائے تاکہ ہم لوگ ان اعمال کے برخلاف جو ہم کیا کرتے تھے دوسرے اعمال (نیک ) کریں ۔ بے شک ان لوگوں نے اپنا ہی نقصان کرلیا اور جو باتیں گھڑ تے تھے وہ سب گم ہوگئیں ۔
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ يُغۡشِى الَّيۡلَ النَّهَارَ يَطۡلُبُهٗ حَثِيۡثًا ۙ وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ وَالنُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمۡرِهٖ ؕ اَلَا لَـهُ الۡخَـلۡقُ وَالۡاَمۡرُ‌ ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ
بے شک تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اورزمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ عرش پر قائم رہا ۔ ڈھانک دیتا ہے رات سے دن کو کہ وہ اس کے پیچھے جلدی سے چلا آتا ہے اورسورج اور چاند اور ستاروں کو پیدا کیا اس طور پر کہ وہ سب اسی کے حکم کے تابع ہیں ۔ آگاہ ہوجاؤ کہ پیدا کرنا اورحکم دینا اللہ ہی کے لئے ہے اللہ رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔
اُدۡعُوۡا رَبَّكُمۡ تَضَرُّعًا وَّخُفۡيَةً‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ‌ ۚ
اپنے رب سے عاجزی اورپوشیدہ طورپر دعا مانگو بے شک وہ (ان بیان کردہ ) حدوں سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا وَادۡعُوۡهُ خَوۡفًا وَّطَمَعًا‌ ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ
اور زمین میں اس کی اصلاح ہوجانے کے فساد نہ مچاؤ اور ڈرتے ہوئے اور امیدرکھتے ہوئے اللہ ہی کی عبادت کیا کرو ۔ بلاشبہ اللہ کی رحمت نیکو کاروں سے قریب ہے
وَهُوَ الَّذِىۡ يُرۡسِلُ الرِّيٰحَ بُشۡرًۢا بَيۡنَ يَدَىۡ رَحۡمَتِهٖ ‌ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتۡ سَحَابًا ثِقَالًا سُقۡنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنۡزَلۡنَا بِهِ الۡمَآءَ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖ مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ‌ؕ كَذٰلِكَ نُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰى لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ
اوروہی ہے جو بارانِ رحمت سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری لئے ہوئے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھالیتی ہیں تو ہم ان کو مردہ زمین کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر ہم بادل سے بارش برساتے ہیں پھر اسی پانی سے ہم ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو (بھی ) نکالیں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
وَالۡبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخۡرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذۡنِ رَبِّهٖ ‌ۚ وَالَّذِىۡ خَبُثَ لَا يَخۡرُجُ اِلَّا نَكِدًا ‌ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّشۡكُرُوۡنَ
اورجو زمین اچھی ہوتی ہے اس سے پیداوار بھی اپنے رب کے حکم سے اچھی (ہی ) نکلتی ہے اورجو زمین خراب ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا ۔ اسی طرح ہم آیتوں کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں قدر دان لوگوں کے لئے
لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ فَقَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ اِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ
ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بناکر بھیجا انہوں نے کہا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں مجھے تمہارے بار ے میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهٖۤ اِنَّا لَـنَرٰٮكَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ
تو ان کی قوم کے سربرآوردہ لوگوں نے کہا ہم تم کو صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں ۔
قَالَ يٰقَوۡمِ لَـيۡسَ بِىۡ ضَلٰلَةٌ وَّلٰـكِنِّىۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ
انہوں نے کہا مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں تورب العالمین کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہوں ۔
اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّىۡ وَاَنۡصَحُ لَـكُمۡ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ
میں اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچاتا ہوں ۔ اور میں تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے۔
اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَكُمۡ وَلِتَـتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ
کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پاس ایک نصیحت خود تمہاری ہی جنس کے ایک آدمی کے ذریعہ آئی ہے تاکہ تم کو ڈرائے اورتاکہ تم پرہیزگار بنو اورتاکہ تم پر رحم کیا جاے۔
فَكَذَّبُوۡهُ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ فِى الۡفُلۡكِ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا‌ ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا عَمِيۡنَ
مگر ان لوگوں نے ان کوجھٹلایا تو ہم نے نوح کو اور ا ن لوگوں کو جو کشتی میں ان کے ساتھ تھے بچالیا اورجن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم نے ان کو غرق کردیا ۔ بلاشبہ وہ لوگ اندھے ہوگئے تھے
وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا‌ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ
اور (اسی طرح ) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ؑ کوبھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو ۔ تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ۔
قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ اِنَّا لَــنَرٰٮكَ فِىۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَــنَظُنُّكَ مِنَ الۡـكٰذِبِيۡنَ
تو ان کی قوم کے جو سربرآوردہ کافر تھے انہوں نے کہا ہم تم کو کم عقل (بے وقوف ) سمجھتے ہیں اورہم خیال کرتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔
قَالَ يٰقَوۡمِ لَـيۡسَ بِىۡ سَفَاهَةٌ وَّلٰـكِنِّىۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ
انہوں نے کہااے میری قوم مجھ میں کم عقلی نہیں ہے بلکہ میں تو رب العالمین کا پیغمبر ہوں ۔
اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّىۡ وَاَنَا لَـكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ
میں تمہیں میرے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اورمیں تمہارا خیر خواہ ہوں جس کی خیر خواہی پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔
اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَكُمۡ‌ ؕ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَـكُمۡ ۚ خُلَفَآءَ مِنۡۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَكُمۡ فِى الۡخَـلۡقِ بَصۜۡطَةً‌‌ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰ لَۤاءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
کیا تم اس بات پرتعجب کرتے ہو کہ تمہاری ہی قوم کے ایک فرد کے ذریعہ تمہارے پاس ایک نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اوریاد کرو جبکہ اس نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا اورڈیل ڈول میں پھیلاؤ بھی زیادہ دیا ۔ پس اللہ کی نعمتوں کویاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ ۔
قَالُـوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا‌ ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ
وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہوکہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اوران معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لاؤ جس کی تم ہم کو دھمکی دیتے ہو۔
قَالَ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ‌ؕ اَتُجَادِلُوۡنَنِىۡ فِىۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡـتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ‌ؕ فَانْتَظِرُوۡۤا اِنِّىۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ
انہو ں نے کہا تمہارے پروردگار کی جانب سے عذاب اورغضب (کا حکم تو ) ہوچکا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے خود رکھ لئے ہیں جن کے تعلق سے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی پس تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں ۔
فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا‌ وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ
پھر ہم نے ان کو اوران لوگوں کو جو ان کیساتھ تھے اپنی مہربانی سے بچالیا اوران لوگوں کی جڑہی کاٹ دی جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں
وَاِلٰى ثَمُوۡدَ اَخَاهُمۡ صٰلِحًا‌ ۘ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوۡا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ‌ ؕ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ‌ ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَـكُمۡ اٰيَةً‌ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِىۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ‌ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ
اورقوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا اورکوئی معبود نہیں ہے ۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس روشن دلیل آچکی ہے یعنی یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے معجزہ ہے اس کو چھوڑ دو تاکہ وہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرا کرے اور برے ارادے سے اسے ہاتھ بھی نہ لگاؤ ورنہ دردناک عذاب تمہیں آپکڑے گا۔
وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَـكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۡۢ بَعۡدِ عَادٍ وَّبَوَّاَكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ تَـتَّخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا وَّتَـنۡحِتُوۡنَ الۡجِبَالَ بُيُوۡتًا‌ ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰ لَۤاءَ اللّٰهِ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ
اوریاد کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد ان کا جانشین بنایا اور زمین پر تم کو رہنے کو ٹھکانہ دیا کہ تم نرم زمین پر محل بناتے ہو اورپتھروں کوتراش تراش کر گھر بنالیتے ہو پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اورزمین میں فساد مچاتے مت پھرو۔
قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ‌ؕ قَالُـوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ
توان کی قوم کے سر بر آور دہ لوگ جو مغرور تھے کمزور طبقے کے ان لوگوں سے جو ان میں ایمان لائے تھے کہنے لگے کیا تم یقین کرتے ہو کہ (واقعی ) صالح ؑ اپنے پروردگار کی جانب سے رسول بناکر بھیجے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہاں وہ جو چیز دے کر بھیجے گئے ہیں ہم بلاشبہ اس پر ایمان لاتے ہیں ۔
قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِىۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ
تو مغرور سرداروں نے کہا تم جس پر ایمان لائے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔
فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ وَ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ
پھر انہوں نے اونٹنی (کے کونچوں ) کو کاٹ ڈالا اوراپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے اے صالح تم جس چیز کی دھمکی دیتے ہو وہ لے آؤ اگر تم سچے پیغمبر ہو ۔
فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ
پس ان کو ایک زلزلے نے آپکڑا سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ وَقَالَ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّىۡ وَنَصَحۡتُ لَـكُمۡ وَلٰـكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ
تو صالح ؑ ان کے پاس سے ہٹ گئے اورکہا اے میری قوم میں نے تم کو میرے رب کا پیغام پہنچادیا اور تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم (اپنے ) خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔
وَلُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ
اور (اسی طرح ہم نے ) لوط کر (پیغمبر بناکر ) بھیجا انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بے حیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے دنیا میں کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا۔
اِنَّكُمۡ لَـتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ‌ ؕ بَلۡ اَنۡـتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ
یعنی تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو تم تو حد سے ہی نکل گئے ہو
وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُـوۡۤا اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ‌ ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ
تو ان کی قوم سےکوئی جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے تم ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑے پاکبازبناچاہتے ہیں ۔
فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ ‌ۖ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ
پس ہم نے ان کو اور ان کے متعلقین کو بچا لیا بجز ان کی بیوی کےوہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔
وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ‌ؕ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ
اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا سو دیکھو کہ مجرموں کا انجام کار کیسا ہوا ؟
وَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا‌ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ‌ ؕ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ‌ فَاَوۡفُوا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا‌ ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا ۔ انہوں نے کہا اے میری قوماللہ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے تمہارے پاس واضح دلیل تمہارے پروردگار کی جانب سے آچکی ہے پس تم ناپ تول پورا پورا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح ہوجانے کے بعد خرابی نہ پیدا کرو ۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم باتوں کو ماننے والے ہو۔
وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوۡعِدُوۡنَ وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِهٖ وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا‌ ۚ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَكُمۡ‌وَانْظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ
اورسڑکوں پر اس نیت سے مت بیٹھو کہ ایمان لانے والوں کو دھمکیاں دو اور اللہ کے راستے سے روکو اوراس میں کجی تلاش کرتے رہواور یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو اللہ نے تم کو زیادہ کردیا اور دیکھو فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔
وَاِنۡ كَانَ طَآٮِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِىۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآٮِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا‌ ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰكِمِيۡنَ
اوراگر تم میں سے بعض لوگ اس پر ایمان لائے ہیں جس کو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اور بعض لوگ ایمان نہیں لائے تو صبر کئے جاؤ یہاں تک کہ اللہ ہمارے اورتمہارے درمیان فیصلہ فرمادے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَـنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا‌ ؕ قَالَ اَوَلَوۡ كُنَّا كَارِهِيۡنَ ۚ
تو ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا اے شعیب ؑ یا تو ہم تم کو اورتمہارے ساتھ جولوگ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ شعیب نے کہا (کیا ہم ایسا کریں ) اگر چہ ہم اس سے بیزار ہیں ۔
قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِىۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰٮنَا اللّٰهُ مِنۡهَا‌ ؕ وَمَا يَكُوۡنُ لَـنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا‌ ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىۡءٍ عِلۡمًا‌ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا‌ ؕ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَـقِّ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ
ہم اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے ہوجائیں گے اگر ہم تمہارے مذہب میں پھر لوٹ آئیں خصوصاً اس حقیقت کے بعد کہ اللہ نے ہم کو اس سے نجات دی ہے ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم (تمہارے ) مذہب میں لوٹ آئیں ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے (تو اوربات ہے ) ہمارے رب کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اے ہمارے رب ہم میں اورہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما ۔ اورتو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَٮِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ
اوران کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا اگرتم نے شعیب ؑ کی پیروی کی توتمبے شک بڑا نقصان اٹھاؤ گے
فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ‌ ۛۙ  ۚ   ۖ
توان کو ایک زلزلے نے آپکڑا سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے ۔
الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا‌‌ ۛۚ اَ لَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰسِرِيۡنَ‌‌
جن لوگوں نے شعیب ؑ کی تکذیب کی تھی (ایسے برباد ہوگئے ) جیسے وہ کبھی اپنے گھروں میں بسے ہی نہیں تھے ۔ غرض جن لوگوں نے شعیب کوجھٹلایا وہی خسارے میں پڑگئے
فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ وَقَالَ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّىۡ وَنَصَحۡتُ لَـكُمۡ‌ۚ فَكَيۡفَ اٰسٰی عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ
پس شعیب ان کے پاس سے نکل گئے اورکہا اے میری قوم میں نے تم کو میرے رب کے پیغامات پہنچادئے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی پھر میں کافروں (کی بربادی) پر کس طرح رنج کروں ۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِىۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّبِىٍّ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَهۡلَهَا بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَضَّرَّعُوۡنَ
اورہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا مگر یہ کہ ہم نے وہاں کے رہنے والوں کو (جھٹلانے پر ) محتاجی اوربیماری میں مبتلا کردیا تاکہ وہ (ہمارے آگے ) عاجزی کریں اور گڑگڑائیں ۔
ثُمَّ بَدَّلۡـنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الۡحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّقَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ
پھر ہم نے بدحالی کو آسودگی میں بدل دیا یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی تو (ازراہ تکبر) کہنے لگے کہ ہمارے بڑوں کوبھی تنگی اور راحت پیش آئی تھی تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اس حال میں کہ وہ بے خبر تھے
وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ وَلٰـكِنۡ كَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ
اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیز گار بن جاتے تو ہم ان پر آسمان اورزمین کی برکتوں (کے دروازوں ) کو کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا توہم نے ان کے اعمال کی سزا میں ان کو پکڑ لیا
اَفَاَمِنَ اَهۡلُ الۡـقُرٰٓى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا بَيَاتًا وَّهُمۡ نَآٮِٕمُوۡنَؕ
توکیا بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آجائے جبکہ و ہ سوتے پڑے ہوں
اَوَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰٓى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًى وَّهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ
اور کیا بستیوں کے رہنے والے اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آجائے جبکہ وہ کھیل کود میں مشغول ہوں ۔
اَفَاَمِنُوۡا مَكۡرَ اللّٰهِ‌ ۚ فَلَا يَاۡمَنُ مَكۡرَ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰسِرُوۡنَ
کیا یہ لوگ اللہ کی پوشیدہ تدبیر سے بے فکر ہوگئے ہیں اللہ کے داؤں سے تو صرف نقصان اٹھانے والے ہی بے خوف ہوجاتے ہیں
اَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَهۡلِهَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ‌ ۚ وَنَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ
اور کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین (کے مرجانے ) کے بعد اب اسکے وارث ہوئے یہ بات باعثِ ہدایت نہیں ہوئی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ہم ان کو مصیبت میں مبتلا کردیں اوران کے دلوں پر مہر لگادیں تاکہ وہ سن ہی نہ سکیں ۔
تِلۡكَ الۡقُرٰى نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآٮِٕهَا‌ ۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ‌ ۚ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا مِنۡ قَبۡلُ‌ ؕ كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡكٰفِرِيۡنَ
اے پیغمبر یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہمآپ کو سنارہے ہیں اور ان سب کے پاس ان کے پیغمبر سچی بات لے کر آئے تھے پس وہ ایسے تو نہیں تھے کہ جس چیز کو جھٹلا چکے تھے اب مان لیتے ۔ اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہرلگادیتا ہے
وَمَا وَجَدۡنَا لِاَكۡثَرِهِمۡ مِّنۡ عَهۡدٍ‌ۚ وَاِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَكۡثَرَهُمۡ لَفٰسِقِيۡنَ
اورہم نے ان میں سے اکثر لوگوں میں وعدہ(کانباہ)نہ دیکھا اورہم نے ان میں کے اکثر لوگوں کو نافرمان ہی دیکھا
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ئِهٖ فَظَلَمُوۡا بِهَا‌ ۚ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ
پھر ہم نے ان (پیغمبروں ) کے بعد موسیٰ ؑ کوہماری نشانیاں (معجزے ) دیکر فرعون اور اس کے امراء کی طرف بھیجا تو انہوں نے انکے ساتھ انصاف نہیں کیا پس آپ دیکھئے کہ فسادیوں کا کیا انجام ہوا ۔
وَ قَالَ مُوۡسٰى يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّىۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ
اور موسیٰ ؑ نے کہا اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں
حَقِيۡقٌ عَلٰٓى اَنۡ لَّاۤ اَقُوۡلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَـقَّ‌ ؕ قَدۡ جِئۡـتُكُمۡ بِبَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ فَاَرۡسِلۡ مَعِىَ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ؕ
میرے لئے سزاوار یہی ہے کہ میں اللہ کی طرف ایسی ہی بات منسوب کروں جو حق ہے میں تمہارے پاس تمہار ے رب کی طرف سے واضح دلیل لیکر آیا ہوں تومیرے ساتھ بنی اسرائیل کوبھیج دے
قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ
اس نے کہا اگر تم کوئی نشانی لیکر آئے ہوتو پیش کرو اگرتم سچے ہو
فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِىَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ‌ ‌ ۖ ‌ۚ
(فوراً ) موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر ) ڈال دی پس اسی وقت وہ بڑا اژدھا بن گیا
وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِىَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ
اور انہوں نے اپنا ہاتھ باہر نکالا تو یکایک وہ دیکھنے والوں کی نظر میں چمکتا ہوا نکلا
قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ ۙ
فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا واقعی یہ تو بڑا ماہر جادو گرہے ۔
يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ‌ ۚ فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ
وہ یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری اس سرزمین سے باہر کردے پس تم کیا مشورہ دیتے ہو ۔
قَالُوْآ اَرْجِهْ وَاَخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَآٮِٕنِ حٰشِرِیْنَ ۙ
انہوں نے کہا کہ موسیٰ اور ہارون کو آپ مہلت دیں ۔ اور شہروں میں نقیب روانہ کردیں
يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيۡمٍ
کہ وہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس حاضر کردیں (چنانچہ ایسا ہی ہوا )
وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ لَـنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ
اور جادو گر فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے اگر ہم غالب آگئے توہم کو انعام ملنا چاہئے
قَالَ نَـعَمۡ وَاِنَّكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ
کہا ہاں (ضرور ملے گا ) (اس کے علاوہ ) تم مقربوں میں (بھی ) داخل کئے جاؤ گے
قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِىَ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ
انہوں نے کہا اے موسیٰ ؑ یا تو تم (جادو کی چیز ) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔
قَالَ اَلۡقُوۡا‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ
موسیٰ ؑ نے کہا تم ہی ڈالو پھر جب انہوں نے (اپنی چیزیں ) ڈالیں تو لوگوں کی نظر بندی کردی اور انکو دہشت زدہ کردیا (لاٹھیوں اوررسیو ں کو سانپ بناکر ) اور ایک بہت بڑا جادو دکھایا ۔
وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ‌ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ‌ۚ
اور اس وقت ہم نے موسیٰ ؑ کی طرف وحی بھیجی تم بھی اپنا عصا ڈالدو (ان کا ڈالنا تھا کہ ) وہ (اژدھا بن کر ) دیکھتے دیکھتے ان کے جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا
فَوَقَعَ الۡحَـقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‌ۚ
پس حق ثابت ہوچکا اور جادو گروں نے جو کچھ کیا تھا وہ باطل ہوگیا
فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ‌ۚ
پس وہ ہار گئے اور ذلیل ہوکر رہ گئے
وَ اُلۡقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيۡنَ ۙ
جادو گر (بے اختیار ) سجدے میں گر پڑے
قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۙ
اور کہنے لگے ہم رب العالمین پر ایمان لائے
رَبِّ مُوۡسٰى وَهٰرُوۡنَ
موسیٰ اور ہارون ؑ کے رب پر
قَالَ فِرۡعَوۡنُ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَـكُمۡ‌ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِى الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا‌ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ
فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں بے شک یہ ایک خفیہ سازش تھی جو تم سب نے مل کر شہر میں کی تاکہ یہا ں کے لوگو ں کو تم یہاں سے نکال دو سوعنقریب تم کو اس کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا
لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ
(پہلے تو ) میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھادوں گا ۔
قَالُـوۡۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ‌ۚ
انہو ں نے کہا کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
وَمَا تَـنۡقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا‌ ؕ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ
تجھ کو ہم سے دشمنی ہے توصرف اس بات سے کہ جب ہمارے رب کی نشانیاں ہمارے پاس آئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے اے ہمارے رب ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور اسلام کی حالت میں ہم کو موت دے
وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اَتَذَرُ مُوۡسٰى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ‌ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡىٖ نِسَآءَهُمۡ‌ ۚ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قَاهِرُوۡنَ
توفرعون کی قوم کے سرداروں نے کہاکیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کویوں ہی چھوڑ دیں گے تاکہ وہ ملک میں فساد مچاتے پھریں اور وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کوچھوڑ دیں فرعون نے کہا ہم ان کے بیٹوں کو قتل کرڈالیں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے اور بلاشبہ ہم ان پر غالب ہیں ۔
قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهِ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا‌ ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ۙ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ
موسیٰ ؑنے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اورثابت قدم رہو بلاشبہ یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنادیتا ہے اور انجام خیر تو متقیوں کے لئے ہے
قَالُـوۡۤا اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا وَمِنۡۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا‌ ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرَ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ
قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم کوتو (فرعونیوں سے ) آپ کے آنے سےپہلے بھی اذیتیں پہنچتی رہیں اورہمارے پاس آپ کے آنے کے بعد بھی موسیٰ ؑ نے کہا قریب ہے کہ اللہ تمہارے دشمنوں کوہلاک کردے اور تم کو ان کی بجائے زمین کا مالک بنادے ۔ پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیا کرتے ہو
وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُوۡنَ
اور ہم نے فرعونیوں کو کئی سال تک قحط سالی میں اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کردیا تاکہ وہنصیحت حاصل کریں
فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ قَالُوۡا لَـنَا هٰذِهٖ‌ ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰى وَمَنۡ مَّعَهٗ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓٮِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ
سو جب ان پر خوش حالی آجاتی توکہتے ہمارے لئے تو یہی ہونا چاہئے تھا اور اگران کو بدحالی پیش آتی تو (اس کو ) موسیٰ ؑ اوران کے ساتھیوں کی نحوست بتاتے دیکھو ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے
وَقَالُوۡا مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّـتَسۡحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ
او ریوں کہتے تھے کہ ہمارے پاس تم کیسی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس کے ذریعے سے ہم پر جادو کردو (پھر بھی ) ہم آپ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَـرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ
تو ہم نے طوفان ۔ ٹڈی دل ۔ جوئیں ۔ مینڈک اور خون (کے عذاب ) بھیجے یہ سب کھلے ہوئے معجزے تھے (مگر)انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی گنہ گار
وَلَـمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَـنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ‌ۚ لَٮِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَـنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ‌ۚ
اور جب ان پر عذاب آتا توکہتے ۔ اے موسیٰ آپ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے اس وعد ہ کی بناء پر جو اس نے آپ سے کیا ہے اگر آپ نے اس عذاب کوہم سے دور کردیا تو ہم آپ پر ضرور ایمان لائیں گے اور آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کوبھی بھیج دیں گے ۔
فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰٓى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ
پھر جب ہم نے عذاب ایک خاص مدت کے لئے کہ جس مدت تک ان کو پہنچنا تھا ‘ہٹا لیا تووہ فوراً عہد کو توڑ ڈالتے ۔
فَانْتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ فِى الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ
آخر کار ہم نے ان سے بدلہ لیا اس طرح کہ ہم نے ان کو دریا میں غرق کردیا اس وجہ سے کہ وہ ہماری نشانیوں کوجھٹلاتے تھے اور ان سے بے پرواہی برتتے تھے ۔
وَاَوۡرَثۡنَا الۡـقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِىۡ بٰرَكۡنَا فِيۡهَا‌ ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَۙ بِمَا صَبَرُوۡا‌ ؕ وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ
اور ہم نے ان لوگوں کومالک بنایا جوکمزور اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اس سرزمین (شام ) کے مشرق اور مغرب کا جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور بنی اسرائیل کے بارے میں آپ کے پروردگار کا وعدہ ٔ خیر ان کے صبر کے سبب پورا ہوگیا اور فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ بنایا تھا (محل ‘کارخانے وغیرہ ) اور جو کچھ اوپر چڑھایا تھا (باغ ‘بیل ) وہ سب تباہ کردیا گیا۔
وَجَاوَزۡنَا بِبَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَ تَوۡا عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰٓى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ‌ ۚ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى اجۡعَلْ لَّـنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ‌  ؕ قَالَ اِنَّكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ
اور ہم نے بنی اسرائیل کودریا کے پار اتار دیا تووہ ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو اپنے بتوں کے سامنے عبادت میں جھکے بیٹھے تھے تو بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ ؑ ہمارے لئے بھی ایک (مجسّم) معبود بنادیجئے جیسے ان کے یہ معبود ہیں موسیٰ ؑ نے فرمایا تم تو بڑے جاہل لوگ ہو
اِنَّ هٰٓؤُلَۤاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ
یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ تو (اللہ کی طرف سے ) برباد ہونے والا ہے اور یہ جو کام کررہے ہیں خود وہ باطل ہے
قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡكُمۡ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَـكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ
اور یہ بھی کہا کیامیں تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں ۔ حالانکہ اس نے توتم کو تمام دنیا والوں پر فضیلت دی ہے
وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَـكُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ‌ ۚ يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَ يَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ‌ ؕ وَفِىۡ ذٰلِكُمۡ بَلَاۤ ءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ
اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے عذاب ) سے نجات دلائی حالانکہ وہ لوگ تو تم کو بڑی سخت تکلیفیں دیتے تھے تمہار ے بیٹوں کو قتل کردیتے تھےاور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی
وَوٰعَدۡنَا مُوۡسٰى ثَلٰثِيۡنَ لَيۡلَةً وَّاَتۡمَمۡنٰهَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِيۡقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرۡبَعِيۡنَ لَيۡلَةً ‌ ۚ وَقَالَ مُوۡسٰى لِاَخِيۡهِ هٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِىۡ فِىۡ قَوۡمِىۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ
اور ہم نے موسیٰ ؑسے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور ان میں دس راتیں اور ملاکر پورا (چلّہ ) کردیا پس یوں چالیس راتوں کی ان کے پروردگار کی میعاد پوری ہوگئی اور موسیٰ ؑ نے جاتے ہوئے اپنے بھائی ہارونؑ سے کہا تم میری قوم میں میرے جانشین بن کر رہو اور اصلاح کرتے رہو او رمفسدوں کے راستے پر نہ چلو
وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰى لِمِيۡقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِىۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ‌ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰٮنِىۡ وَلٰـكِنِ انْظُرۡ اِلَى الۡجَـبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوۡفَ تَرٰٮنِىۡ‌ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّخَرَّ مُوۡسٰى صَعِقًا‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَكَ تُبۡتُ اِلَيۡكَ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
اور جب موسیٰ ؑ ہمارے مقرر کردہ وقت پر (کوہ طور ) آئے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو موسیٰ نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھ لوں ۔ فرمایا تم مجھے (فی الحال ) ہرگز نہ دیکھ سکو گے ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو ۔ اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم مجھ کودیکھسکوگے جب آپ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تواس پہاڑ کے پر خچے اڑادئے اور موسیٰ ؑ بے ہوش ہوکر گر پڑے جب ہوش آیا توعرض کیاتیری ذات پاک ہے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں ہوں
قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اِنِّى اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِىۡ وَ بِكَلَامِىۡ ‌ۖ  فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ
ارشاد ہوا اے موسیٰ میں نے اپنی پیغمبری اور اپنے کلام سے تم کو دوسرے لوگوں پر امتیاز بخشاپس جو کچھ میں نے تم کو دیا ہے اسے لے لو اور شکر بجالاؤ
وَكَتَبۡنَا لَهٗ فِى الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ‌ ۚ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا‌ ؕ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ
اور ہم نے موسیٰ ؑ کے لئے تورات کی تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر ان سے کہا ان کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو اور اپنی قوم کو بھی تاکید کرو کہ وہ اس کے پسندیدہ احکام پر چلیں ۔عنقریب میں تم کو نافرمانوں کی جگہ بتادوں گا۔
سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِىَ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ ؕ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا‌ ۚ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ لَا يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا‌ ۚ وَّاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَىِّ يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا‌ ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ
جولوگ ملک میں ناحق غرور کرتے ہیں میں ان کو اپنی نشانیوں سے بر گشتہ رکھوں گا اور اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر یہ ایمان نہیں لائیں گے اور اگر یہ ہدایت کا راستہدیکھ لیں تو اس کو اپنی راہِ (عمل) نہیں بنائیں گے اور اگر یہ گمراہی کاراستہ دیکھ لیں تو اسے راہ (عمل )بنالیں گے یہ اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے غفلت برتتے تھے۔
وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ‌ؕ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ
اورجن لوگوں نے ہماری آیتوں کو اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے سب اعمال اکارت ہوگئے ۔ ان کو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا کہ وہ عمل کرتے تھے
وَاتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰى مِنۡۢ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ‌ ؕ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ۘ اِتَّخَذُوۡهُ وَكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ
اور موسیٰ ؑ کی قوم نے موسیٰ ؑ کے (جانے کے) بعد اپنے زیوروں کا ایک بچھڑا بنایا ایک جسم جس میں بیل کی آواز نکلتی تھی کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ نہ تو ان سے بات کرتا ہے اور نہ ان کو کوئی راستہ بتاتا ہے اس کو انہوں نے معبود بنالیا اوراپنے آپ پر ظلم کیا
وَلَـمَّا سُقِطَ فِىۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ۙ قَالُوۡا لَٮِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَيَغۡفِرۡ لَـنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھ لیا کہ وہ حقیقت میں گمراہ ہوگئے تو کہنے لگے اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہ کرے اورہم کو نہ بخشے تویقیناً ہم نقصان میں رہیں گے
وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰٓى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِىۡ ۚ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ‌ ۚ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ‌ؕ قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡـقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِىۡ وَكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِىۡ ‌ۖ  فَلَا تُشۡمِتۡ بِىَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِىۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ
اورجب موسیٰ ؑ اپنی قوم کی طرفغصے اور افسوس کی حالت میں لوٹے تو لوگوں سےکہا کہ تم نے میرے بعد بہت براکیا ۔ کیا تم لوگ اپنے پروردگار کا حکم آنے سے پہلے جلدی کر بیٹھے اور (تورات کی ) تختیاں ڈالدیں اوراپنے بھائی (ہارون ) کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچا (انہوں نے کہا ) اے میرے بھائی ان لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ وہ مجھے قتل بھی کردیں پس آپ مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دیں اور میرا شمار ظالموں میں نہ کریں
قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِىۡ وَلِاَخِىۡ وَ اَدۡخِلۡنَا فِىۡ رَحۡمَتِكَ ‌ۖ  وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ
موسیٰ نے دعا کی اے میرے پروردگار مجھے بخش دے اورمیرے بھائی کو بھی اورہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما ۔ اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّـةٌ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِىۡ الۡمُفۡتَرِيۡنَ
جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا ان پر ان کے پروردگار کا غضب نازل ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ان کو ذلّت نصیب ہوگی اور اسی طرح افترا کرنے والوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ۔
وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِهَا وَاٰمَنُوۡۤا اِنَّ رَبَّكَ مِنۡۢ بَعۡدِهَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ
اور جن لوگوں نے برے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کرلیاور ایمان لے آئے توبلاشبہ آپ کا پروردگار (اس ) توبہ کے بعدبخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے
وَلَـمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ‌ۖ  وَفِىۡ نُسۡخَتِهَا هُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّـلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ
اور جب موسیٰ ؑ کا غصہ فرو ہوگیا انہوں نے تختیاں اٹھالیں جن کے مضامین میں ہدایت اوررحمت تھی ان لوگو ں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں
وَاخۡتَارَ مُوۡسٰى قَوۡمَهٗ سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا لِّمِيۡقَاتِنَا‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَـكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّاىَ‌ ؕ اَ تُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا ۚ اِنۡ هِىَ اِلَّا فِتۡنَـتُكَ ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِىۡ مَنۡ تَشَآءُ ‌ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَـنَا وَارۡحَمۡنَا‌ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغَافِرِيۡنَ
اور موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو اس میعاد کے لئے جو ہم نے مقرر کی تھی منتخب کرکے (کوہ طور ) پر لائے جب ان کو زلزلہ نے پکڑا تو موسیٰ ؑ نے کہا اے پروردگار اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو بھی پہلے ہی ہلاک کردیتا ۔ کیا ہم میں سے چند احمقوں کی حرکتوں کی وجہ سے تو ہم کو ہلاک کردیگا ۔ یہ واقعہ محض تیری طرف سے ایک آزمائش ہے توجس کو چاہے اس کے ذریعہ گمراہ کردے اور جس کو چاہے ہدایت دے تو ہمارا کارساز ہے ۔ پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اورتوبہترین بخشنے والا ہے۔
وَاكۡتُبۡ لَـنَا فِىۡ هٰذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً وَّفِى الۡاٰخِرَةِ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ‌ؕ قَالَ عَذَابِىۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ‌ ۚ وَرَحۡمَتِىۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَىۡءٍ‌ ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ‌ۚ
اوراس دنیا میں بھی ہمارے لئے بھلائی لکھ دے اور آخرتمیں بھی ہم تیری طرف رجوع ہوچکے ہیں فرمایا میرا عذاب تو میں اسی پر واقع کرتا ہو ں جسے میں چاہتا ہوں اور میری رحمت ہر چیزپر محیط ہے اوراسے میں ان لوگوں کے لئے لکھوں گا جو تقویٰ شعار ہیں اور زکات دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں
اَ لَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِىَّ الۡاُمِّىَّ الَّذِىۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ يَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهٰٮهُمۡ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡخَبٰۤٮِٕثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِىۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ‌ ؕ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ وَنَصَرُوۡهُ وَ اتَّبَـعُوا النُّوۡرَ الَّذِىۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗ ۤ‌ ۙ اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ
جو لوگ اس پیغمبر کی پیروی کرتے ہیں جونبی امی ہیں جن (کے اوصاف ) کو وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں (کہ ) وہ نبی انہیں نیک کام کرنے کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اور ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کوحلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے اوران پر جو (غلط رسوم اوربدعات کے) بوجھ اورطوق تھے ان کو ان سے اتارتا ہے پس جو لوگاس (نبی موصوف ) پر ایمان لائے اوراسکی حمایت کی اور اسکی مدد کی اوراس نور کی پیروی کی جواس کے ساتھ بھیجا گیا ہے ا س توایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔
قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّىۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعَاْ ۨالَّذِىۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُ‌ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِىِّ الۡاُمِّىِّ الَّذِىۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ
اے پیغمبر آپ کہدیجئے اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں جس کی بادشاہت آسمانوں اورزمین میں ہے ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت بھی دیتا ہے پس تم اللہ پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے ایمان لاؤ کہ وہ بھی اللہ پر اور اس کے تمام فرامین پر ایمان لاتا ہے اور اس کی اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ ۔
وَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰٓى اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَـقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ
اور موسیٰ ؑ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہدایت کا راستہ بتاتے اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں
وَقَطَّعۡنٰهُمُ اثۡنَتَىۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا‌ ؕ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اِذِ اسۡتَسۡقٰٮهُ قَوۡمُهٗۤ اَنِ اضۡرِبْ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ‌ ۚ فَاْنۢبَجَسَتۡ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا‌ ؕ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ‌ؕ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰىؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ‌ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ
اورہم نے انکو (بنی اسرائیل کو) بارہ خاندانوں میں تقسیم کرکے بڑے بڑے گروہ بنادئے اور ہم نے موسیٰ کو حکم دیا جبکہ ان کی قوم نے ان سے پانی مانگا کہ اپنا عصا (فلاں ) پتھر پر مارو ۔ فوراً اس سے بارہ چشمے پھوٹنکلے (چنانچہ ) ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا اورہم نے بنی اسرائیل پر ابر کا سایہ کردیا اور (کھا نے کے لئے ) ان پر من اور سلویٰ نازل کیا (ان سے کہا ) جوپاک چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں کھاؤ اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ وہ تو اپنا ہی نقصان کرلیاکرتے تھے
وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰذِهِ الۡقَرۡيَةَ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ وَقُوۡلُوۡا حِطَّةٌ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا نَّـغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطِيْٓــٰٔــتِكُمۡ‌ ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ
اورجب ان سے کہا گیا (اور وہ واقعہ یاد کرو ) جب ہم نے بنی اسرائیل سے کہا اس شہر میں سکونت اختیار کرو اورجہاں سے چاہو کھاؤاور زبان سے (حطۃ حطۃ) معافی معافی کہتے رہنا اور شہر کے دروازے میں (عاجزی سے) جھکے ہوئے داخل ہونا تو ہم تمہارے قصور معاف کردیں گے اور عنقریب ہم نیکو کاروں کو مزید برآں ثواب دیں گے ۔
فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِىۡ قِيۡلَ لَهُمۡ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ
مگر ان میں جو ظالم تھے انہوں نے وہ بات بدل ڈالی جو ان سے کہی گئی تھی اور اس کےبجائے دوسرا لفظ (حنطۃ )کہا پس ہم نے ا ن پر آسمان سے عذاب بھیجا کیوں کہ وہ ظالم تھے
وَسۡـــَٔلۡهُمۡ عَنِ الۡـقَرۡيَةِ الَّتِىۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ‌ۘ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِى السَّبۡتِ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ‌ ۙ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ‌‌ ۛۚ كَذٰلِكَ ‌ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ
اوراے پیغمبر آپ ان سے ایک بستی (والوں ) کا حال پوچھئے جولب ِ دریا تھا جبکہ ہفتہ کے دن کے بارے میں وہ حد سے آگے نکل رہے تھے جبکہ ان کے ہفتے کے دن ہی ان کی مچھلیاں دریا سے ابھر ابھر کر ان کے پاس آجاتی تھیں اورجس دن ہفتہ نہ ہوتا تووہ ان کے پاس نہ آتی تھیں اسی طرح ہم ان کی نافرمانیوں کے سبب ان کی آزمائش کرنے لگے
وَاِذۡ قَالَتۡ اُمَّةٌ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡمَاْ ‌ ۙ ۨاللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًا‌ ؕ قَالُوۡا مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ
اورجب کہ ان ہی میں کی ایک جماعت نے یوں کہا تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ یا تو ہلا ک کرنے والا ہے یا سخت عذاب دینے والا ہے انہوں نے جواب دیاتمہار ے رب کے پاس معذرت پیش کرنے کے لئے اور اس وجہ سے کہ وہ ڈر (کر بازآ) جائیں
فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡۤءِ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَــِٕيۡسٍۭ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ
پھر جب انہوں نے و ہ نصیحت بھلادی جوان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کوبچالیا جوبرائی سے (دوسروں کو ) روکتے تھے اور ان لوگوں کوجو ظلم کرتے تھے ہم نے سخت عذاب میں پکڑ لیا اس لئے کہ وہ نافرمانی کئے جاتے تھے۔
فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ قُلۡنَا لَهُمۡ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِـٮِٕیْنَ
پھر جن اعمال سے ان کو روکا گیا تھا ان میں وہ سرکش ہوگئے توہم نے ان سے کہا ذلیل بندر ہوجاؤ۔
وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ‌ ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ‌ ‌ۖۚ وَاِنَّهٗ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ
اور وہ وقت یاد کرو جب آپ کے پروردگارنے (یہودیوں کو) آگاہ کردیا تھا کہ اللہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط کرتا رہے گا جوان کو بدترین تکلیف دیتا رہے گا بے شک اللہ جلد عذاب دینے والا ہے (اور معافی چاہنے پر) وہ بخشنے والا اور مہربان ہے
وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اُمَمًا‌ ۚ مِنۡهُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ‌ وَبَلَوۡنٰهُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ
اور ہم نے ا نکو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کردیا ان میں بعض تو نیک ہیں اور بعض اور طرح کے (بدکار ) اورہم نے انہیں اچھے (خوشحالی کے) اوربرے (بدحالی کے ) حالات سے آزمایا تاکہ وہ ہماری طرف رجوع کریں
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ سَيُغۡفَرُ لَـنَا‌ ۚ وَاِنۡ يَّاۡتِهِمۡ عَرَضٌ مِّثۡلُهٗ يَاۡخُذُوۡهُ‌ ؕ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّيۡثَاقُ الۡـكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَـقَّ وَدَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ‌ ؕ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ‌ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ
لیکن ان کے بعد ایسے ناخلف ان کے جانشین ہوئے جوکتاب (توراۃ ) کے وارث بنے یہ دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دئے جائیں گے (حالانکہ) ان کے پاس پھر ویسا ہی مال ومتاع آجاتا ہے تووہ اس کو لے لیتے ہیں کیا ان سے کتاب کے تعلق سے یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ اللہ کی طرف سچ کے سوا اورکوئی بات منسوب نہیں کریں گے اورکتاب میں جوکچھ تھا اس کو انہوں نے پڑھا بھی ہے اور آخرت کا گھر پرہیز گاروں کے لئے بہتر ہے (تو اے یہود ) کیا تم نہیں سمجھتے
وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡـكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ؕ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ
اور جولوگ کتاب کومضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوئے ہیں اورنماز قائم کرتے ہیں توہم نیکو کاروں کے اجر کوضائع نہیں کرتے
وَاِذۡ نَـتَقۡنَا الۡجَـبَلَ فَوۡقَهُمۡ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌ ۢ بِهِمۡ‌ ۚ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ
اورجب ہم نے ان کے سروں پر پہاڑ اٹھا کر کھڑا کیا چھت کی طرح اوران کو یقین ہوگیا کہ بس وہ ان پر گراہی چاہتا ہے تو ہم نے کہا جوہم نے تم کو دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑے رہو اورا س میں جوکچھ ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم بچ جاؤ
وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَنِىۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَ اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ‌ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ‌ ؕ قَالُوۡا بَلٰى‌ ۛۚ شَهِدۡنَا ‌ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰذَا غٰفِلِيۡنَ ۙ
اورجب ہم نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور خود ا ن سے ان کے مقابلے میں یہ اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں انہوں نے جواب دیا کیوں نہیں ۔ ہم سب گواہ ہیں یہ اس لئے کیاکہ قیامت کے دن تم یوں نہ کہوکہ ہم تواس (توحید ) سے بے خبر تھے۔
اَوۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۡۢ بَعۡدِهِمۡ‌ۚ اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ
یا یوں کہو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کیا تھا اور ہم ان کے بعدان کی نسل میں ہوئے توکیا اہل باطل کے اعمال کے بدلے میں تو ہم کو ہلاک کرتا ہے
وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ
اور اسی طرح ہم اپنی آیتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ (ہماری طرف ) رجوع کریں
وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِىۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ
اور اے پیغمبر آپ ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں پھرتو وہ ان کی حدوں سے باہر نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا پس نتیجہ یہ ہواکہ وہ گمراہوں میں شامل ہوگیا
وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا وَلٰـكِنَّهٗۤ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ وَاتَّبَعَ هَوٰٮهُ‌ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الۡـكَلۡبِ‌ ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُكۡهُ يَلۡهَث ‌ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا‌ ۚ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُوۡنَ
اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کے سبب اس کے درجوں کو بلند کرتے لیکن وہ تو پستی (دنیا ) کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تواس پر حملہ کرے تب بھی ہانپے اور اگر تو اسے یوں ہی چھوڑ دے تب بھی ہانپتا رہے یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تواے پیغمبر آپ ان لوگوں کو یہ احوال سنائیے تاکہ وہ غور و فکر کریں ۔
سَآءَ مَثَلَاْ ۨالۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی مثال بہت بری ہے اوریہ لوگ (تکذیب کرکے ) اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔
مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِىۡ‌ۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَاُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ
جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جس کو (اللہ ) گمراہ کردے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
وَلَـقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَـهَنَّمَ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ‌ ‌ۖ  لَهُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ بِهَا  وَلَهُمۡ اَعۡيُنٌ لَّا يُبۡصِرُوۡنَ بِهَا  وَلَهُمۡ اٰذَانٌ لَّا يَسۡمَعُوۡنَ بِهَا ؕ اُولٰۤٮِٕكَ كَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ هُمۡ اَضَلُّ‌ ؕ اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ
اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسانوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے جن کے ایسے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ان کی ایسی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے ایسے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں ۔ یہ لوگ چار پایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ ۔ یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا‌ وَذَرُوا الَّذِيۡنَ يُلۡحِدُوۡنَ فِىۡۤ اَسۡمَآٮِٕهٖ‌ ؕ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ
اور اللہ ہی کے لئے سب اچھے اچھے نام ہیں تو تم اس کو انہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں عنقریب ان کو ان کے کئے کی سزا دی جائے گی
وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَـقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ
اورہماری مخلوقات میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو (دوسروں کو ) حق کا راستہ بتلاتے ہیں اور اسی کے مطابق انصاف کرتے ہیں
وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ‌ۖ ‌ ۚ
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلادیا ہم ان کو بتدریج اس طرح پکڑیں گے کہ ان کو خبر تک نہ ہو
وَاُمۡلِىۡ لَهُمۡ ‌ؕ اِنَّ كَيۡدِىۡ مَتِيۡنٌ
اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں اور بلاشبہ میری خفیہ تدبیر بڑی مضبوط ہے
اَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُوۡا‌؄ مَا بِصَاحِبِهِمۡ مِّنۡ جِنَّةٍ‌ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق (محمد ﷺ ) پرجنون کا کچھ اثر نہیں ہے وہ تو کھلے طور پر ڈرانے والے ہیں
اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِىۡ مَلَـكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَىۡءٍ ۙ وَّاَنۡ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ‌ ۚ فَبِاَىِّ حَدِيۡثٍۢ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ
اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اوران چیزوں میں جن کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور (اس امر میں بھی ) عجب نہیں کہ ان کی موت کا وقت قریب آچکا ہے آخر اس (قرآن ) کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔
مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِىَ لَهٗ ‌ؕ وَ يَذَرُهُمۡ فِىۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ
جس شخص کواللہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ ان کو چھوڑ دیتاہے کہ وہ اپنی گمراہی میں بھٹکتے پھریں
يَسۡـَٔـــلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰٮهَا ‌ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّىۡ‌ ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَۘ ‌ؕؔ ثَقُلَتۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً ‌ ؕ يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِىٌّ عَنۡهَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ
یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کب واقع ہوگی آپ جواب دیجئے کہ اس کا علم تو میرے پرور دگار ہی کو ہے اس کے وقت پر اس کے سوائے کوئی اور ظاہر نہ کرے گا ۔ آسمانوں اور زمین میں وہ ایک بڑا بھاری حادثہ ہوگا وہ تم پر اچانک آن پڑے گی یہ لوگ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا آپ اس سے بخوبی واقف ہیں آپ فرمادیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے
قُلْ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِىۡ نَـفۡعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ‌ ؕ وَلَوۡ كُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ لَاسۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَيۡرِ ۖ ‌ۛۚ وَمَا مَسَّنِىَ السُّۤوۡءُ‌ ‌ۛۚ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ وَّبَشِيۡرٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ
نیز آپ کہدیجئےکہ میں تو اپنی ذات کے لئے بھی نہ فائدہ کا اختیار رکھتا ہوں نہ نقصان کا مگر اتنا ہی جتنا اللہ چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا توبہت سے فائدے حاصل کرلیتا ۔ اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی ۔ میں توصرف ایمان لانے والوں کے لئے (عذاب سے ) ڈرانے والا اور (ثواب کی ) خوش خبری سنانے والا ہوں
هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّـفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا‌ ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰٮهَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا فَمَرَّتۡ بِهٖ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَٮِٕنۡ اٰتَيۡتَـنَا صَالِحًا لَّـنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ
وہی اللہ ہے جس نے تم کو تنِ واحدسے پیدا کیا اوراسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے ۔ پھر جب خاوند نے بیوی سے صحبت کی تو اسے خفیف سا حمل رہ گیا جس کو لے کر وہ چلتی پھرتی ہے پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں مل کر اللہ سے جو ان کا رب ہے دعائیں کرتے ہیں کہ اگرتو نے ہمیں صحیح وسالم اولاد دی تو ہم تیرے شکر گذار رہیں گے
فَلَمَّاۤ اٰتٰٮهُمَا صَالِحًـا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰٮهُمَا‌ ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ
جب اللہ نے ان کو صحیح وسالم اولاد دے دی تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے اللہ ان کے شرک سے بلند وبالا ہے
اَيُشۡرِكُوۡنَ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـــا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ‌ ‌ۖ 
کیا وہ ایسوں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں جوکچھ بھی پیدا نہیں کرتے
وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ لَهُمۡ نَـصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ
بلکہ خود وہ پیدا کئے ہوئے ہیں اور نہ تو وہ ان کی کچھ مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی آپ ہی مدد کرتے ہیں
وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى لَا يَتَّبِعُوۡكُمۡ‌ ؕ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡـتُمۡ صٰمِتُوۡنَ
اور اگر تم ان کو سیدھی راہ کی طرف بلاؤ تو وہ تمہارا کہنا نہ مانیں گے تمہارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں خواہ تم ان کو پکارو یا خاموش رہو
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُـكُمۡ‌ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ
بلا شبہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ بھی تمہاری طرح بندے ہیں پس تم ان کو پکارو تو اگر تم سچے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ جواب دیں ۔
اَلَهُمۡ اَرۡجُلٌ يَّمۡشُوۡنَ بِهَآ اَمۡ لَهُمۡ اَيۡدٍ يَّبۡطِشُوۡنَ بِهَآ اَمۡ لَهُمۡ اَعۡيُنٌ يُّبۡصِرُوۡنَ بِهَآ اَمۡ لَهُمۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا‌ ؕ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ
کیا ان کےپاؤں ہیں جن سے وہ چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑیں یا ان کے آنکھ ہیں جن سے وہ دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنیں ۔ آپ کہدیجئے کہ تم اپنے شریکوں کو بلالو پھر میرے خلاف جوسازش کرنی ہو کرلو اورپھر مجھے مہلت بھی نہ دو (مجھے کچھ نقصان نہ ہوگا )
اِنَّ وَلىِّۦَ اللّٰهُ الَّذِىۡ نَزَّلَ الۡـكِتٰبَ ‌ۖ  وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيۡنَ
کیوں کہ بلاشبہ میرا مددگار تو اللہ ہی ہے جس نے کتاب (قرآن) نازل کی اور وہ نیک بندوں کی مدد کرتا ہے
وَالَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ نَـصۡرَكُمۡ وَلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ
اور اللہ کوچھوڑ کر تم جن کو پکارتے ہو وہ نہ تو تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرتے ہیں
وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى لَا يَسۡمَعُوۡا‌ ؕ وَتَرٰٮهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ وَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ
اور اگر تم ان کوسیدھی راہ کی طرف بلاؤ تو وہ سنیں گے بھی نہیں اور آپ کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔
خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰهِلِيۡنَ
اے پیغمبر در گذر کا طریقہ اختیار کیجئے ۔ اور نیک کام کرنے کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے اعراض کیجئے
وَاِمَّا يَنۡزَغَـنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ‌ؕ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ
اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آپ کے دل میں پیدا ہوتو اللہ سے پناہ مانگئے بے شک وہ سننے واا اور جاننے والا ہے
اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّهُمۡ طٰۤٮِٕفٌ مِّنَ الشَّيۡطٰنِ تَذَكَّرُوۡا فَاِذَا هُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ‌ۚ
جولوگ پرہیز گار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی خطرہ محسوس بھی ہوتا ہے تووہ چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھوں سے) دیکھنے لگتے ہیں ۔
وَاِخۡوَانُهُمۡ يَمُدُّوۡنَهُمۡ فِى الۡغَىِّ ثُمَّ لَا يُقۡصِرُوۡنَ
مگر جوشیطان کے بھائی ہیں انہیں گمراہی میں کھینچے لئے جاتے ہیں او رکوئی کسر نہیں اٹھارکھتے
وَاِذَا لَمۡ تَاۡتِهِمۡ بِاٰيَةٍ قَالُوۡا لَوۡلَا اجۡتَبَيۡتَهَا‌ ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوۡحٰٓى اِلَىَّ مِنۡ رَّبِّىۡ ‌ۚ هٰذَا بَصَآٮِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ وَهُدًى وَّ رَحۡمَةٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ
اور جب آپ ان کے پاس کوئی معجزہ نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ آپ نے خود کسی معجزہ کا انتخاب (کرکے پیش ) کیوں نہیں کیا آپ کہدیجئے میں تو اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جومیرے رب کی جانب سے میری طرف بھیجی گئی ہے یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے سرمایۂ بصیرت ‘سامانِ دانش موجب ہدایت اور سراسررحمت ہے ان لوگوں کے لئے جوایمان لاتے ہیں
وَاِذَا قُرِئَ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ
اورجب قرآن پڑھاجائے توکان لگاکر سنو اور خاموش رہا کرو ،تاکہ تم پر رحمت کی جائے
وَاذۡكُرْ رَّبَّكَ فِىۡ نَفۡسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيۡفَةً وَّدُوۡنَ الۡجَـهۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ وَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِيۡنَ
اور آپ اپنے پرودگار کودل ہی دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ الفاظ (ذکر ) کو پکار کر نہیں (پست آواز سے ) صبح اور شام یعنی علی الدّوام یاد کرتے رہئے اور غافل نہ ہوجائیے
اِنَّ الَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَيُسَبِّحُوۡنَهٗ وَلَهٗ يَسۡجُدُوۡنَ۩
جولوگ آپ کے پروردگار کے پاس ہیں و ہ اس کی عبادت سے سرتابی نہیں کرتے وہ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں
×
Preferred translation language Font size Bookmark