بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
شروع کرتا ہوں الله کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے
الٓمّٓۚ
الٓمٓ
ذٰلِكَ الۡڪِتٰبُ لَا رَيۡبَۛۚۖ فِيۡهِۛۚ هُدًى لِّلۡمُتَّقِيۡنَۙ
یہ کتاب (قرآن) اس میں کچھ شک نہیں ہدایت ہے پرہیزگاروں کیلئے
الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ وَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَۙ
جوغیب (پوشیدہ باتوں ) پرایمان لاتے ہیں اور پڑھتے ہیں نماز اورجوکچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
وَالَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِمَۤا اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِكَۚ وَبِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَؕ
اور جو کتاب آپ پر نازل کی گئی اور جو کتابیں آپ سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل کی گئیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں اورآخرت پریقین رکھتے ہیں ۔
اُولٰٓٮِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ
یہی لوگ اپنے پروردگارکی طرف سے ہدایت پرہیں اوریہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ
جو لوگ کافر ہوگئے ان کیلئے یکساں ہے خواہ تم ان کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان نہیں لائیں گے
خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡ‌ؕ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ  وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ
اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پرمہرلگادی ہے اوران کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۘ
بعض لوگ ایسے ہیں جوکہتے ہیں کہ ہم اللہ پراورآخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں اوروہ ہرگز مومن نہیں
يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ‌ۚ وَمَا يَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَؕ
یہ لوگ(اپنے زعم میں ) اللہ اورایمان والوں کودھوکہ دے رہے ہیں مگر در اصل یہ اپنے آپ کودھوکہ دے رہے ہیں اورانہیں اس کا شعور نہیں ہے
فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ‌ۚ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۢۙبِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ
ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے اللہ نے انکامرض اوربڑھا دیا ہے اور ان کے جھوٹ کہنے کی وجہ سے ان کودردناک عذاب ہے
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ
اور جب ان سے کہا گیا کہ فسادبرپا نہ کرو زمین میں تو کہا کہ ہم تواصلاح کرنے والے ہیں
اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَلٰـكِنۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ
یاد رکھو بلاشبہ یہی مفسد ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡاۤ اَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰـكِنۡ لَّا يَعۡلَمُوۡنَ
اور جب ان سے کہا گیا تم بھی ایمان لاؤ جس طرح اورلوگ ایمان لائے ہیں تو انہوں نے کہا کیا ہم بے وقوفوں کی طرح ایمان لائیں ۔ آگاہ ہوجاؤکہ بے وقوف تو خود و ہی ہیں لیکن نہیں جانتے
وَاِذَا لَقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡاۤ اٰمَنَّا ۖۚ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰى شَيٰطِيۡنِهِمۡۙ قَالُوۡاۤ اِنَّا مَعَكُمۡۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَهۡزِءُوۡنَ
اور یہ لوگ جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب تنہائی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں توان سے کہتے ہیں کہ ہم توتمہارے ہی ساتھ ہیں ۔ ہم تومسلمانوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔
اَللّٰهُ يَسۡتَهۡزِئُ بِهِمۡ وَيَمُدُّهُمۡ فِىۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ
اللہ ان سے مذاق کرتا ہے اورانہیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں ۔
اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالۡهُدٰى فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُهُمۡ وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ
یہ و ہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدلی ہے پس ان کو نفع نہیں دیا ان کے سودے نے اورنہ وہ ہدایت یافتہ ہوئے ۔
مَثَلُهُمۡ كَمَثَلِ الَّذِى اسۡتَوۡقَدَ نَارًا ‌ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوۡرِهِمۡ وَتَرَكَهُمۡ فِىۡ ظُلُمٰتٍ لَّا يُبۡصِرُوۡنَ
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (اندھیری رات میں ) آگ جلائی اورجب آگ نے ماحول کوروشن کردیا تو اللہ نے ان کے آنکھوں کی روشنی اڑالی اور ان کواندھیروں میں چھوڑدیا اب وہ کچھ نہیں دیکھتے ۔
صُمٌّۢ بُكۡمٌ عُمۡىٌ فَهُمۡ لَا يَرۡجِعُوۡنَ ۙ
یہ بہرے ہیں ۔ گونگے ہیں اندھے ہیں کہ کسی طرح سیدھے راستے کی طرف لوٹ نہیں سکتے
اَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيۡهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعۡدٌ وَّبَرۡقٌ‌ ۚ يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ‌ؕ وَاللّٰهُ مُحِيۡطٌ‌ۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ
یا ان کی مثال بارش کی سی ہے جو آسمان سے برس رہی ہے جس کے ساتھ اندھیرا ‘گرج اورچمک ہے اوریہ کڑکسے ڈر کر موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں اوراللہ حق کا انتظارکرنے والوں کا ہر طرح احاطہ کیا ہوا ہے ۔
يَكَادُ الۡبَرۡقُ يَخۡطَفُ اَبۡصَارَهُمۡ‌ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمۡ مَّشَوۡا فِيۡهِۙ وَاِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَيۡهِمۡ قَامُوۡا‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمۡعِهِمۡ وَاَبۡصَارِهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ
قریب ہے کہ بجلی کی چمک ان کی بصارت اچک لیجائے جب بجلی ان پر روشنی ڈالتی ہے تو وہ اس میں چل پڑتے ہیں اورجب اندھیرا ہوجاتا ہے تو کھڑے رہ جاتے ہیں ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے کانوں کی شنوائی اورآنکھوں کی بینائی کو زائل کردیتا‘بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ۙ
اے لوگو اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم اس کے عذاب سے بچ سکو
الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّـكُمۡ‌ۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا وَّاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ
وہی جس نے تمہارے لئے زمین کوبچھونا اورآسمان کو چھت بنایا اورآسمان سے بارش برسائی اوراس پانی سے انواع واقسام کے میوے تمہارے لئے پیدا کئے پس تم کسی کوخدا کاہمسر نہ بناؤاورتم جانتے توہو
وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ وَادۡعُوۡا شُهَدَآءَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ
اور اگرتم کو اس کتاب کے بارے میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے (محمدؐ) پرنازل کی ہے تواسطرح کی ایک سورت توبنالاؤاوراللہ کے سوا تمہارے مددگاروں کوبھی بلالواگرتم سچے ہو۔
فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَلَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوۡا النَّارَ الَّتِىۡ وَقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ  ۖۚ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ
اور اگر ایسا نہ کرسکو اور تم یقیناً ایسا نہ کرسکوگے توڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے جو کافروں کے لئے تیارکی گئی ہے
وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ؕ ڪُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡهَا مِنۡ ثَمَرَةٍ رِّزۡقًا ‌ۙ قَالُوۡا هٰذَا الَّذِىۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَاُتُوۡا بِهٖ مُتَشَابِهًا ‌ؕ وَلَهُمۡ فِيۡهَآ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ‌ۙ وَّهُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ
اورخوش خبری سنادو ان لوگوں کوجو ایمان لائے اورعمل صالح کئے کہ ان کیلئے باغ ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں جب انہیں ان میں سے کوئی میوہ کھانے کے لئے دیا جائے گا تو وہ کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا اور انکو ایک دوسرے سے ملتے جلتے میوے دیئے جائیں گے اور ان کیلئے پاک جوڑے ہوں گے اوروہ باغوں میں ہمیشہ رہیں گے
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسۡتَحۡـىٖۤ اَنۡ يَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا ‌بَعُوۡضَةً فَمَا فَوۡقَهَا ‌ؕ فَاَمَّا ‌الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ۚ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ڪَفَرُوۡا فَيَقُوۡلُوۡنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهٖ ڪَثِيۡرًا وَّيَهۡدِىۡ بِهٖ كَثِيۡرًا ‌ؕ وَمَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِيۡنَۙ
اللہ اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مثال بیان کردے مچھر کی یا اس سے بڑھ کرکسی چیز کی جولوگ مومن ہیں وہ یقین کرتے ہیں کہ بے شک یہ ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے لیکن جو کافرہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مرادہے ۔ اس(مثال)سےاللہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت لوگوں کو ہدایت دیتا ہے۔اوروہ نہیں گمراہ کرتا مگر حدسے بڑھ جانے والوں کوہی
الَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيُفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ
جو اللہ کے ساتھ مضبوط اقرارکرنے کے بعدتوڑدیتے ہیں اور جن (قرابت کے رشتوں ) کوجوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انکو توڑدیتے ہیں اورزمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
كَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَڪُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡيَاکُمۡ‌ۚ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ
تم خدا کاکس طرح انکارکرسکتے ہوجبکہ تم بے جان تھے تو اللہ نے تم کوزندہ کیا پھرتم کو وہ مارتا ہے پھر وہی زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کرجاؤ گے
هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ لَـكُمۡ مَّا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰٮهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ‌ؕ وَهُوَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ
وہی تو ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے و ہ سب تمہارے لئے پیدا کیاپھر آسمانوں کی طرف متو جہ ہوا اور ان کو ٹھیک سات آسمان بنادئے اور وہ (اللہ) ہر چیز سے خبردارہے
وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓٮِٕكَةِ اِنِّىۡ جَاعِلٌ فِى الۡاَرۡضِ خَلِيۡفَةً ؕ قَالُوۡٓا اَتَجۡعَلُ فِيۡهَا مَنۡ يُّفۡسِدُ فِيۡهَا وَيَسۡفِكُ الدِّمَآءَۚ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَـكَ‌ؕ قَالَ اِنِّىۡٓ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ
اور جبکہ آپ کے پروردگارنے فرشتوں سے کہا کہ زمین میں ‘میں اپنا نائب بنانے والا ہوں انہوں نے کہا کیاتو زمین میں ایسے کو نائب بناتا ہے جو زمین میں خرابیاں پیدا کرے اورکشت وخون کرتاپھرے اورہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں فرمایا میں وہ جانتا ہو ں جو تم نہیں جانتے
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمۡ عَلَى الۡمَلٰٓٮِٕكَةِ فَقَالَ اَنۡۢبِــُٔوۡنِىۡ بِاَسۡمَآءِ هٰٓؤُلَآءِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ
اور اللہ نے آدم کوسب چیزوں کے نام سکھادئے ۔ پھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو
قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ
انہوں نے کہا تو پاک ہے جتنا علم تونے ہمیں بخشا ہے اس کے سوا ہم کوکچھ معلوم نہیں بے شک تودانا اورحکیم ہے ۔ (تب ) خدا نے کہااے آدم ان چیزوں کے ناموں سے انکو خبردار کردو۔
قَالَ يٰٓـاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡهُمۡ بِاَسۡمَآٮِٕهِمۡ‌ۚ فَلَمَّآ اَنۡۢبَاَهُمۡ بِاَسۡمَآٮِٕهِمۡۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُل لَّـكُمۡ اِنِّىۡٓ اَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِۙ وَاَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَ
جب آدم نے ان چیزوں کے نام بتلادئے تواللہ نے کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اورجوتم ظاہرکرتے ہواورجوتم چھپاتے ہو میں ان تمام کو جانتا ہوں
وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡٓا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰى وَاسۡتَكۡبَرَ  وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ
اورجب ہم نے فرشتوں کوحکم دیا کہ آدم کوسجدہ کروتوسب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے کہ اس نے انکار کردیا اورغرورکرگیا اورکافروں میں ہوگیا
وَقُلۡنَا يٰٓـاٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَـنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ
اورہم نے کہا اے آدم تم اورتمہاری بیوی (حوا ) جنت میں رہو اورتم دونوں اس جنت میں جہاں سے چاہو فراغت کے ساتھ کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں شمار ہوگے
فَاَزَلَّهُمَا الشَّيۡطٰنُ عَنۡهَا فَاَخۡرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيۡهِ‌ وَقُلۡنَا اهۡبِطُوۡا بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَـكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ
پس شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلادیا اور جس حالت میں تھے وہاں سے دونوں کو نکال دیا تب ہم نے کہا اب تم یہاں سے اترجاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اورتمہیں زمین میں ایک خاص وقت تک ٹہرنا اورزندگی گذارنا ہے
فَتَلَقّٰٓى اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيۡهِ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ
پھر آدم نے سیکھ کر اپنے رب سے چندکلمات توبہ کی ‘اللہ نے ان کی توبہ قبول کی بے شک وہ معاف کرنے والا اوررحم کرنے والا ہے
قُلۡنَا اهۡبِطُوۡا مِنۡهَا جَمِيۡعًا ‌‌ۚ فَاِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ مِّنِّىۡ هُدًى فَمَنۡ تَبِعَ هُدَاىَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ
ہم نے کہا تم سب یہاں سے اتر جاؤ پس جب کبھی تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے توجو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے توان کونہ خوف ہوگا اورنہ وہ رنجیدہ ہوں گے ۔
وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِـاٰيٰتِنَآ اُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ
اورجن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور جھٹلایا وہ دوزخ والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
يٰبَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَتِىَ الَّتِىۡٓ اَنۡعَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ وَاَوۡفُوۡا بِعَهۡدِىۡٓ اُوۡفِ بِعَهۡدِكُمۡۚ وَاِيَّاىَ فَارۡهَبُوۡنِ
اے آل یعقوبمیرے وہ احسان یادکروجومیں نے تم پر کئے تھے اوراس وعدہ کوپوراکروجوتم نے مجھ سے کیا تھا میں اس وعدہ کوپورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اورمجھ سے ہی ڈرتے رہو
وَاٰمِنُوۡا بِمَآ اَنۡزَلۡتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ وَلَا تَكُوۡنُوۡآ اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ‌ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِىۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا وَّاِيَّاىَ فَاتَّقُوۡنِ
اور ایمان لاؤ اس کتاب پرجو میں نے(محمد پر) نازل کی ہے جوتمہاری کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اوراسکے اول منکر مت بنو اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت (دنیا) مت حاصل کرواورمجھ سے ہی ڈرتے رہو
وَلَا تَلۡبِسُوا الۡحَـقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوا الۡحَـقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ
اورحق کوباطل کے ساتھ نہ ملاؤ اورسچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ
وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارۡكَعُوۡا مَعَ الرّٰكِعِيۡنَ
اورنمازقائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو۔ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو
اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَ الۡكِتٰبَ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ
کیا تم لوگوں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیتے ہواورخودکوبھول جاتے ہوحالانکہ تم(خدا کی) کتاب بھی پڑھتے ہو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے (رنج اورتکلیف میں )
وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ‌ؕ وَاِنَّهَا لَكَبِيۡرَةٌ اِلَّا عَلَى الۡخٰشِعِيۡنَۙ
صبراورنماز سے مدد لیا کرو بے شک نمازبڑا گراں بوجھ ہے مگر ان لوگوں کیلئے نہیں جو عاجزی کرنے والے ہیں
الَّذِيۡنَ يَظُنُّوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ وَاَنَّهُمۡ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ
جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
يٰبَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَتِىَ الَّتِىۡٓ اَنۡعَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ وَاَنِّىۡ فَضَّلۡتُكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ
اے آل یعقوب میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اوراس بات کو (بھی یاد کرو )کہ میں نے تمام عالم والوں پر تم کوفضیلت بخشی تھی
وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا لَّا تَجۡزِىۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیْــٴً۬ــا وَّلَا يُقۡبَلُ مِنۡهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا يُؤۡخَذُ مِنۡهَا عَدۡلٌ وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ
اوراس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ کسی کی سفارش قبول کی جائے گی اورنہ کسی کا بدلہ لیا جائے گااور نہ لوگ مدد حاصل کرسکیں گے
وَاِذۡ نَجَّيۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ‌ؕ وَفِىۡ ذٰلِكُمۡ بَلَاۤءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ
یاد کرووہ وقت جب ہم نے تمکو قوم ِفرعون سے نجات بخشی وہ تم کو بدترین عذاب دیتے تھے ، تمہارے بیٹوں کوذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے ا س میں تمہارے رب کیطرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی
وَاِذۡ فَرَقۡنَا بِكُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَيۡنٰکُمۡ وَاَغۡرَقۡنَآ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ
یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا اور تم کو نجات دی اور فرعونیوں کو غرق کردیا اور تم دیکھ ہی رہے تھے
وَاِذۡ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰٓى اَرۡبَعِيۡنَ لَيۡلَةً ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ وَاَنۡـتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ
اور جب ہم نے موسیٰ سے وعدہ لیا چالیس رات (اور دن ) کا اور تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تم ظلم کر رہے تھے ۔
ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنۡكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ
پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا تاکہ تم شکر گذار بنے رہو
وَاِذۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ وَالۡفُرۡقَانَ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ
یاد کرو جب ہم نے عطا کی موسیٰ ؑ کو کتاب اور معجزے تاکہ تم ہدایت پاؤ ۔
وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖ يٰقَوۡمِ اِنَّكُمۡ ظَلَمۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ بِاتِّخَاذِكُمُ الۡعِجۡلَ فَتُوۡبُوۡآ اِلٰى بَارِٮِٕكُمۡ فَاقۡتُلُوۡٓا اَنۡفُسَكُمۡؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ عِنۡدَ بَارِٮِٕكُمۡؕ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ
یاد کرو جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا لوگو! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر بڑاظلم کیا ہے ۔ پس تم اپنے خالق کے حضور توبہ کرو ۔ اور اپنی جانوں کو قتل کر ڈالو ۔ تمہارے خالق کے پاس تمہارے لئے یہی چیز بہتر ہے پھر اس نے تمہاری توبہ قبول کرلی بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے ۔
وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يٰمُوۡسٰى لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَـكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهۡرَةً فَاَخَذَتۡكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ
یاد کرو جب تم نے موسیٰ ؑسے کہا جب تک ہم خدا کو علانیہ دیکھ نہیں لیتے تم پر ہم کو یقین نہیں آتاتو تم کو بجلی نے گھیر لیا تمہارے دیکھتے دیکھتے
ثُمَّ بَعَثۡنٰكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِكُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ
پھر تمہارے مرجانے کے بعد ہم نے تم کو زندہ کیا تاکہ تم شکر گذار بن جاؤ
وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡکُمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰى‌ؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ‌ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا وَلٰـكِنۡ كَانُوۡآ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ
اور تم پر بادل کا سایہ کئے رکھا اور تم پر من و سلویٰ اتارتے رہے اور کھاؤ جو پاک چیز یں ہم نے تم کو دی ہیں تمہارے بزرگوں نے ہمارے اوپر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا
وَاِذۡ قُلۡنَا ادۡخُلُوۡا هٰذِهِ الۡقَرۡيَةَ فَکُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّةٌ نَّغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطٰيٰكُمۡ‌ؕ وَسَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ
اور یاد کرو جب ہم نےان سےکہا کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ اوراس میں جہاں سے تم چاہو فراغت کےساتھ کھاؤمگر دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونااور حطۃ حطۃ کہتے ہوئے جانا ۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دینگے
فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلاً غَيۡرَ الَّذِىۡ قِيۡلَ لَهُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ
تو جو ظالم تھے انہوں نے جو بات کہی گئی تھی اس کو بدل کر دوسرا لفظ کہہ دیا پس ہم نے ان ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا کیوں کہ وہ نافرمانیاں کئے جارہے تھے
وَاِذِ اسۡتَسۡقٰى مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖ فَقُلۡنَا اضۡرِب بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ‌ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا‌ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ‌ؕ کُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ اللّٰهِ وَلَا تَعۡثَوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ
یاد کرو جبکہ موسیٰ ؑنے اپنی قوم کے لئے (خدا سے ) پانی مانگا۔ تو ہم نے کہا اپنا عصا پتھر پر مارو چنانچہ اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر(کے پانی پی) لیا پھر (ہم نے کہا) اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور پیو مگر زمین میں فساد مچاتے مت پھرو
وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يٰمُوۡسٰى لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ مِنۡۢ بَقۡلِهَا وَقِثَّـآٮِٕهَا وَفُوۡمِهَا وَعَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا‌ؕ قَالَ اَتَسۡتَبۡدِلُوۡنَ الَّذِىۡ هُوَ اَدۡنٰى بِالَّذِىۡ هُوَ خَيۡرٌ‌ؕ اِهۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَـکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ‌ؕ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ وَالۡمَسۡکَنَةُ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقۡتُلُوۡنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ‌ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّڪَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ
یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ ؑ ہم ایک طرح کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے۔اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ پیدا کرے وہ ہمارے لئے زمین کی پیداوار ساگ بھاجی ، ککڑی ، گیہوں ، مسور اور پیاز موسیٰ ؑ نے کہا کیا ایک بہتر چیز کے بدلے میں ادنیٰ چیز لینا چاہتے ہو ۔ کسی شہرمیں چلے جاؤ وہاں تم جو مانگتے ہو مل جائے گا ذلّت اورمحتاجی ان پر مسلّط کردی گئی اوراللہ کے غضب میں گرفتار ہوگئے یہ اسلئے ہوا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے ۔ اورپیغمبرو ں کوناحق قتل کرتے تھے ‘ یہ نتیجہ تھا اس کاکہ وہ نافرمانی کرتے اورحدسے آگے بڑھ جاتے تھے
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـِٕـيۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ
جو لوگ مسلمان ہوں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست ہوں جو خدا پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اورنیک عمل کرے گا ایسے لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ خدا کے پاس ہے اور ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہے اورنہ رنج ۔
وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَؕ خُذُوۡا مَآ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّ اذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ
یادکروجب کہ ہم نے طورکو تم پر اٹھاکرتم سے پکا وعدہ لیاتھاکہ جوکتاب ہم نے تم کو دی ہے و ہ مضبوطی کے ساتھ تھامے رہواوراس میں جو لکھا ہے اسے یاد رکھو تاکہ عذاب خدا سے بچو
ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ‌‌ۚ فَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَـكُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
توتم اس وعدہ سے مکر گئے ۔ پس اگرتم پر اللہ کا فضل اوراس کی رحمت نہ ہوتی تو تم خسارہ میں پڑگئے ہوتے
وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ الَّذِيۡنَ اعۡتَدَوۡا مِنۡكُمۡ فِىۡ السَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَهُمۡ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خَاسِـِٔـيۡنَ ‌ۚ
اورتم ان لوگوں کوتو جانتے ہی ہو جنہوں نے ہفتہ کے دن (مچھلی کا شکارکرنے میں ) زیادتی کی تھی ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل وخوار بندربن جاؤ
فَجَعَلۡنٰهَا نَكٰلاً لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهَا وَمَا خَلۡفَهَا وَمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ
اورہم نے اس واقعہ کو اس وقت کے لوگوں کیلئے اورآئندہ آنے والی نسلوں کیلئے عبرت اورڈرنے والوں کے لئے نصیحت بنادیا
وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تَذۡبَحُوۡا بَقَرَةً ‌ ؕ قَالُوۡآ اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ‌ؕ قَالَ اَعُوۡذُ بِاللّٰهِ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰـهِلِيۡنَ
یادکروجبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ تم کو حکم دیتاہے کہ ایک گائے ذبح کرو انہوں نے کہا کیا تم ہم سے ہنسی اورمذا ق کرتے ہو موسیٰ نے کہا میں اس بات سے پناہ مانگتا ہو ں کہ جاہلوں میں سے ہوجاؤں
قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِىَ‌ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِكۡرٌؕ عَوَانٌۢ بَيۡنَ ذٰلِكَ‌ؕ فَافۡعَلُوۡا مَا تُؤۡمَرُوۡنَ
انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہمیں بتائے کہ گائے کس طرح کی ہو کہا پروردگار فرماتاہے وہ گائے ہونہ توبوڑھی ہو اورنہ بچھڑا بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان ) ہو پس جیسا تم کو حکم دیا جاتا ہے ویسا کرو
قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُهَا ‌ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفۡرَآءُۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِيۡنَ
انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے کہو کہ وہ ہمارے واسطے اس کا رنگ بیان کرے (موسیٰ نے ) کہا پروردگارکہتاہے کہ اس گائے کا رنگ گہرا زردہوناچاہئے کہ دیکھنے والے کاجی خوش ہوجائے ۔
قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِىَۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَيۡنَا ؕ وَاِنَّـآ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهۡتَدُوۡنَ
انہوں نے کہا اپنے رب سے کہو کہ وہ ہم کو بتادے کہ وہ کس طرح کی ہو کیوں کہ بہت سی گائیں ایک دوسرے سے مشابہہ ہوتی ہیں پھر خدا نے چاہا تو ہم کو ٹھیک بات معلوم ہوجائے گی
قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوۡلٌ تُثِيۡرُ الۡاَرۡضَ وَلَا تَسۡقِى الۡحَـرۡثَ ‌ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيۡهَا ‌ؕ قَالُوا الۡــٴٰــنَ جِئۡتَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ فَذَبَحُوۡهَا وَمَا كَادُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ
موسیٰ نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے کا م میں لگی ہوئی نہ ہو ۔ نہ تو زمین جوتتی ہو ۔ اورنہ پانی کھیتی کو پہنچاتی ہو سالم ہو اس میں کسی طرح کاداغ نہ ہو ‘انہوں نے کہا کہ اب تم نے ساری باتیں درست بتادیں ۔ پھر انہوں نے اسکو ذبح کیا حالانکہ وہ ایساکرنے والے نہیں تھی
وَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِيۡهَا ‌ؕ وَاللّٰهُ مُخۡرِجٌ مَّا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَۚ
یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا پھر اسکے بارے میں جھگڑنے لگے تھے لیکن اللہ اسکو ظاہر کرنے والا ہےجو بات تم چھپار ہے تھے
فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡهُ بِبَعۡضِهَا ‌ؕ كَذٰلِكَ يُحۡىِ اللّٰهُ الۡمَوۡتٰى ۙ وَيُرِيۡکُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ
توہم نے کہا اس گائے کا کوئی ٹکڑا مردہ پرمارو اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتاہے اورتم کواپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم غور کرو
ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالۡحِجَارَةِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَةً ‌ ؕ وَاِنَّ مِنَ الۡحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ الۡاَنۡهٰرُ‌ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ الۡمَآءُ‌ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ
پھر اسکے بعدتمہارے دل سخت ہوگئے گویا وہ پتھرہیں یا ان سے زیادہ سخت۔ اورپتھر تو بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اوربے شک بعض ایسے ہوتے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اورا ن سے پانی نکلتا ہے اوربعض گر پڑتے ہیں خدا کے خوف سے اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے
اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا لَـكُمۡ وَقَدۡ كَانَ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ کَلَامَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوۡنَهٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡهُ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ
اے مسلمانو ! کیا تم یہ امیدرکھتے ہوکہ یہ لوگ تمہارے دین پر ایمان لائیں گے حالانکہ ان میں سے کچھ لوگ کلام ِخدا (تورات ) کوسنتے پھر اس کو سمجھ لینے کے بعد اس کوجان بوجھ کربدل دیتے ہیں
وَاِذَا لَـقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡآ اٰمَنَّا  ۖۚ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ قَالُوۡآ اَ تُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوۡكُمۡ بِهٖ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ
اور جب یہ لوگ مومنو ں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اورجب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں توکہتے ہیں جو بات خدا نے تم پر ظاہرفرمائی ہے و ہ تم انکو اسلئے بتادیتے ہوکہ اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں کیا تم سمجھتے نہیں
اَوَلَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ
کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اورجوکچھ ظاہر کرتے ہیں خدا کوسب معلوم ہے
وَ مِنۡهُمۡ اُمِّيُّوۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِىَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ
اوربعض ان میں سے ا ن پڑھ ہیں وہ اپنے باطل خیالات کے سوا کتاب سے واقف ہی نہیں اوروہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں
فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ يَكۡتُبُوۡنَ الۡكِتٰبَ بِاَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ يَقُوۡلُوۡنَ هٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ لِيَشۡتَرُوۡا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ؕ فَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا کَتَبَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا يَكۡسِبُوۡنَ
ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت (دنیا) حاصل کرلیں ۔ان پر افسوس ہے ایسے لکھنے پر اورپھر ان پر افسوس ہے کہ وہ ایسے کام کرتے ہیں
وَقَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدَةً ‌ ؕ قُلۡ اَتَّخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ عَهۡدًا فَلَنۡ يُّخۡلِفَ اللّٰهُ عَهۡدَهٗۤ‌ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ
اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو بھی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو کیا تم نے خدا سے (ایسا) اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گایا تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں
بَلٰى مَنۡ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّاَحَاطَتۡ بِهٖ خَطِيْۤـــَٔتُهٗ فَاُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ
ہاں جوبرے کام کرے اوراسکے گناہ اسکوگھیرلیں توایسے لوگ دوزخ میں جانے والے ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ
اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں وہ جنتی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے
وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰکِيۡنِ وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ ؕ ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡکُمۡ وَاَنۡـتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ
اور جب ہم نے یعقوب ؑ کی اولادسے اقرار لیاتھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اورماں باپ اوررشتہ داروں اوریتیموں اور محتاجوں کے ساتھ نیک سلوک کرنااورلوگوں سے بھی اچھی باتیں کہنا اورنماز قائم کرنا اورزکوٰۃ دینا ۔مگر چندلوگو ں کے سوائے تم سب اس عہد سے پلٹ گئے اور منہ پھیر لیا۔
وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ لَا تَسۡفِكُوۡنَ دِمَآءَكُمۡ وَلَا تُخۡرِجُوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ ثُمَّ اَقۡرَرۡتُمۡ وَاَنۡـتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ
یاد کرو جب ہم نے تم سے اقرار لیا تھا کہ آپس میں کشت وخون نہ کرنا اور ایک دوسرے کو بے گھرنہ کرنا ۔ تم نے اس کااقرار کیا تھا اورتم خود اس کے گواہ ہو
ثُمَّ اَنۡـتُمۡ هٰٓؤُلَاۤءِ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَتُخۡرِجُوۡنَ فَرِيۡقًا مِّنۡكُمۡ مِّنۡ دِيَارِهِمۡ تَظٰهَرُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِؕ وَاِنۡ يَّاۡتُوۡكُمۡ اُسٰرٰى تُفٰدُوۡهُمۡ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيۡڪُمۡ اِخۡرَاجُهُمۡ‌‌ؕ اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡكِتٰبِ وَتَكۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ‌ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ يَّفۡعَلُ ذٰلِكَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡىٌ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ‌ۚ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُرَدُّوۡنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الۡعَذَابِ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ
پھرتم وہی ہوجو ایک دوسرے کوقتل کرتے ہو اوربعض لوگوں کوان کے گھروں سے ان پر گناہ وزیادتی سے چڑھائی کرکے ان کو نکال بھی دیتے ہو ۔ اگر وہ تمہارے پاس قیدہوکرآئیں توفدیہ دے کرانہیں چھڑا بھی لیتے ہو۔ حالانکہ انکا نکال دینا ہی تم پرحرام تھا کیا تم کتاب کے بعض احکام تومانتے ہو اور انکار کرتے ہو بعض کاپس تم میں سے جوایسی حرکت کریں ان کی سزا اس کے سوا اورکیا ہوسکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اورقیامت کے دن سخت ترعذاب میں ڈال دئے جائیں تم جو کچھ کررہے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے
اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ فَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے عوض دنیوی زندگی خریدلی ہے پس نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی اور نہ ان کومددملیگی
وَ لَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ وَقَفَّيۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهٖ بِالرُّسُلِ‌ وَاٰتَيۡنَا عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ الۡبَيِّنٰتِ وَاَيَّدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ‌ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَهۡوٰٓى اَنۡفُسُكُمُ اسۡتَكۡبَرۡتُمۡ‌ۚ فَفَرِيۡقًا كَذَّبۡتُمۡ وَفَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ
اورہم نے موسیٰ کوکتاب دی اورا ن کے بعدیکے بعددیگرے (کئی ) پیغمبر بھیجتے رہے اورعیسیٰ بن مریم کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے انکی مدد کی توجب کوئی پیغمبرتمہارے پاس ایسی باتیں لیکرآئے جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تم سرکش ہوجا تے ہو ۔ اورایک گروہ کوتم نے جھٹلادیا ۔ اور ایک گروہ کوتم نے قتل کردیا۔
وَقَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ‌ؕ بَل لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَقَلِيۡلًا مَّا يُؤۡمِنُوۡنَ
اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پر دے میں ہیں (نہیں ) بلکہ خدا نے ان کے کفرکے سبب ان پرلعنت کی ہے اس لئے یہ تھوڑے ہی ایما ن لاتے ہیں
وَلَمَّا جَآءَهُمۡ كِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمۡۙ وَكَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ يَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَى الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا  ‌ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِهٖ‌ فَلَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ
اور جب خدا کے ہاں سے ان کے پاس کتاب آئی جوان کی آسمانی کتاب کی تصدیق کرتی ہے اور وہ پہلے تو فتح مانگا کرتے تھے کافروں پر تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے جب ان کے پاس آئی تو انہوں نے اس کا انکار کردیا پس کافروں پر خدا کی لعنت ہے۔
بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّڪۡفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بَغۡيًا اَنۡ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ۚ فَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ‌ؕ وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ
پس بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا محض اس ضد کی وجہ سے انہوں نے اس چیزکا انکارکیا جو اللہ نے نازل کی کہ اللہ نے اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جسکوچاہا اس سے نوازدیا ۔ پس وہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے اورکافروں کیلئے ذلت آمیز عذاب ہے
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا نُؤۡمِنُ بِمَآ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ وَهُوَ الۡحَـقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمۡ‌ؕ قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡـــۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ
اورجب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لاؤ اس چیزپرجوخدا نے نازل کی ہے توکہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں اس پر جوہم پر نازل ہوچکی ہے اور انکار کرتے ہیں اس چیز کا جواس کے سوا ہے حالانکہ وہ حق ہے اور تصدیق کرنے والی ہے اس وحی کی جو اُنکے ساتھ ہے ان سے کہو اگر تم صاحب ایمان تھے تو خدا کے پیغمبروں کو اس سے قبل کیوں قتل کرتے رہے
وَلَقَدۡ جَآءَکُمۡ مُّوۡسٰى بِالۡبَيِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ وَاَنۡـتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ
اور موسیٰ ؑ تمہارے پاس روشن نشانیوں کو لیکر آئے پھر ان کے بعد تم نے بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم تو (اپنے آپ پر) ظلم کرنے والے ہو
وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَآ اٰتَيۡنٰکُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاسۡمَعُوۡا ‌ ؕ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا  وَاُشۡرِبُوۡا فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡعِجۡلَ بِکُفۡرِهِمۡ ‌ؕ قُلۡ بِئۡسَمَا يَاۡمُرُکُمۡ بِهٖۤ اِيۡمَانُكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ
یاد کرو جب ہم نے تم سے پختہ وعدہ لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھاکھڑا کردیا اور (حکم دیا) جو کتاب ہم نے دی ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو اور اس کو سنو تو (تمہارے بڑوں نے کہا) ہم نے سن لیا لیکن مانتے نہیں اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا ہی انکے دلوں میں رچ گیا تھا ۔ اے پیغمبر آپ ان سے کہدیجئے اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔
قُلۡ اِنۡ كَانَتۡ لَـکُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ عِنۡدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ
کہدیجئے اگر آخرت کا گھراللہ کے نزدیک اور لوگوں یعنی مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ صرف تمہارے لئے خاص ہے تو اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو
وَ لَنۡ يَّتَمَنَّوۡهُ اَبَدًاۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ
لیکن ان کے اعمال بد کی وجہ سے وہ ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے
وَلَتَجِدَنَّهُمۡ اَحۡرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَيٰوةٍ  ۛۚ وَ مِنَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا‌‌  ۛۚ يَوَدُّ اَحَدُهُمۡ لَوۡ يُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَةٍ ۚ وَمَا هُوَ بِمُزَحۡزِحِهٖ مِنَ الۡعَذَابِ اَنۡ يُّعَمَّرَ‌ؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ 
تم ان کو سب سے زیادہ زندگی کے حریص پاؤ گے یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی بڑھ کر ان میں سے ہرایک کی خواہش یہ ہے کہ کاش وہ ہزار برس جئے ۔ مگر لمبی عمر کسی طرح اس کو عذاب سے بچا نہیں سکتی وہ جو کام کررہے ہیں خدا تو ان کو دیکھ رہا ہے
قُلۡ مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِيۡلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلۡبِكَ بِاِذۡنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَهُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ
کہہ دیجئے کہ جو شخص جبرئیل کا دشمن ہے (محض) اس وجہ سے کہ اسنے اللہ کے حکم سے اس کتاب کو آپ کے قلب (اطہر) پر نازل کیا جو تصدیق کرنے والی ہے پہلی کتابوں کی اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت و بشارت ہے
مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓٮِٕکَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰٮلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ
جو شخص خدا کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیلاور میکائیل کا دشمن ہے تو ایسے کافروں کا اللہ دشمن ہی
وَلَقَدۡ اَنۡزَلۡنَآ اِلَيۡكَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ‌‌ۚ وَمَا يَكۡفُرُ بِهَآ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ
اور ہم نے تمہاری طرف واضح آیتیں نازل کیں اور ان کا انکار وہی کرسکتے ہیں جو بدکردار ہیں ۔
اَوَکُلَّمَا عٰهَدُوۡا عَهۡدًا نَّبَذَهٗ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ‌ؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ
ان لوگوں نے جب بھی خدا سے وعدہ کیا تو اس کو پھینک ہی دیاان میں سے ایک فریق نے حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بے ایمان ہیں
وَلَمَّا جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمۡ نَبَذَ فَرِيۡقٌ مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَۙ کِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوۡرِهِمۡ كَاَنَّهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ
اور جب انکے پاس خدا کے پیغمبر آئے اور وہ ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق بھی کرتے ہیں تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے تو اللہ کی کتاب کو اس طرح پس پشت ڈال دیا گویا کہ وہ اُسے جانتے ہی نہیں
وَاتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّيٰطِيۡنُ عَلٰى مُلۡكِ سُلَيۡمٰنَ‌‌ۚ وَمَا کَفَرَ سُلَيۡمٰنُ وَلٰـكِنَّ الشَّيٰـطِيۡنَ كَفَرُوۡا يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ وَمَآ اُنۡزِلَ عَلَى الۡمَلَـکَيۡنِ بِبَابِلَ هَارُوۡتَ وَمَارُوۡتَ‌ؕ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡؕ‌ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِهٖ‌ؕ وَمَا هُمۡ بِضَآرِّيۡنَ بِهٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَيَتَعَلَّمُوۡنَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ‌ؕ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰٮهُ مَا لَهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ‌ؕ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ‌ؕ لَوۡ کَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ سلیمان نے تو کبھی کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین ہی کفر کرتے تھےکہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے ) جو شہر بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک کہ یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم توآزمائش کا سبب ہیں تم کفر میں نہ پڑو ۔ غرض لوگ ان سے وہ (علم) سیکھتے تھے جسکے ذریعہ میاں اور بیوی میں جدائی ڈال دیں اور خدا کے حکم کے سوا وہ کسی کا کچھ بگاڑ تو نہ سکتے تھے اور وہ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کے لئے نقصان دہ تھے نفع بخش نہیں اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص اس چیز (جادو منتر) کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری تھی وہ چیز جسکے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ۔ کاش وہ اس بات کو جانتے
وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَةٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ خَيۡرٌ ؕ‌ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ
اور اگر وہ ایمان لاتے اور اللہ سے ڈرتے تو اللہ کے پاس اسکا صلہ بہتر ملتا ۔ کاش وہ اس سے واقف ہوتے
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَاسۡمَعُوۡا ‌ؕ وَلِلۡڪٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ
اےایمان والو (گفتگو کے وقت پیغمبر خدا سے) راعنانہ کہا کرو ۔ اُنظر نا کہا کرو اور توجہ سے بات سنو اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے
مَا يَوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَلَا الۡمُشۡرِكِيۡنَ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡڪُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ يَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ
جو لوگ کافر ہیں خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر خیر نازل ہو اور خدا تو جسکو چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَآ اَوۡ مِثۡلِهَا ‌ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ
ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی آیت بھیج دیتے ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَمَا لَـکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ
کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے نہ مدد گار ۔
اَمۡ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَسۡـَٔـلُوۡا رَسُوۡلَـكُمۡ كَمَا سُٮِٕلَ مُوۡسٰى مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَبَدَّلِ الۡکُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوالات کرو جس طرح کہ اس سے پہلے موسیٰ ؑ سے سوال کئے گئے تھے اور جس نے ایمان کے بدلے کفر کو لے لیا وہ بھٹک گیا سیدھے راستے سے ۔
وَدَّ کَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ۖۚ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَـقُّ‌ ۚ فَاعۡفُوۡا وَاصۡفَحُوۡا حَتّٰى يَاۡتِىَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى کُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ
اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح ایمان سے پلٹا کرتم کو کافر بنادیں ۔ ان پر حق ظاہر ہونے کے بعد ان کی یہ خواہش ان کے حسد کی وجہ سے ہے، تو تم معاف کردو اور در گذر کردو ۔ یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آجائے بے شک اللہ ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے ۔
وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ  ‌ؕ وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ تَجِدُوۡهُ عِنۡدَ اللّٰهِ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ
نماز قائم کرو اور زکواۃ ادا کرو اور جو نیکی اپنے لئے آگے بھیجوگےتم اس کو اللہ کے پاس پاؤ گے بے شک اللہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے ۔
وَقَالُوۡا لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَـنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰى‌ؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡ‌ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ
اور وہ (اہل کتاب) یہ کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا دوسرا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔یہ ان کی تمنائیں ہیں (ان سے) کہدو اگر تم (اپنے دعوے میں ) سچے ہیں تو کوئی دلیل پیش کرو ۔
بَلٰى مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحۡسِنٌ فَلَهٗۤ اَجۡرُهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ
ہاں جو شخص اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکادے اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگااور نہ وہ رنجیدہ ہونگے
وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ لَـيۡسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَىۡءٍ وَّقَالَتِ النَّصٰرٰى لَـيۡسَتِ الۡيَهُوۡدُ عَلٰى شَىۡءٍۙ وَّهُمۡ يَتۡلُوۡنَ الۡكِتٰبَؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِهِمۡ‌ۚ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ
اور یہود کہتے ہیں کہ عیسائی راستے پر نہیں ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہود راستے پر نہیں ۔ حالانکہ وہ (دونوں )اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں بالکل اسی طرح کی بات وہ لوگ بھی کرتے ہیں جو (کتاب کا) مطلق علم نہیں رکھتے ۔ پس جن امور میں اختلاف رکھتے ہیں اللہ قیامت کے دنان کا فیصلہ ان کے درمیان کرے گا
وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنۡ يُّذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ وَسَعٰـى فِىۡ خَرَابِهَا ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ مَا كَانَ لَهُمۡ اَنۡ يَّدۡخُلُوۡهَآ اِلَّا خَآٮِٕفِيۡنَ ؕ لَهُمۡ فِى الدُّنۡيَا خِزۡىٌ وَّلَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی مسجد وں میں اللہ کا نام لینے سے منع کرتا ہے اور ان کی ویرانی میں کوشاں ہو ۔ ایسے لوگوں کو تو ان (عبادت گاہوں ) میں داخل ہونے کا بھی حق نہیں مگر ڈرتے ڈرتے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑاعذاب ہی
وَلِلّٰهِ الۡمَشۡرِقُ وَالۡمَغۡرِبُ‌ فَاَيۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡهُ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ
مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کے ہیں تم جس طرف بھی رخ کرو گے اُدھر اللہ کی ذات ہے بے شک اللہ بڑی وسعت والا جاننے والا ہے
وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ‌ سُبۡحٰنَهٗ ‌ؕ بَل لَّهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ كُلٌّ لَّهٗ قَانِتُوۡنَ
یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ صاحب اولاد ہے نہیں وہ (ان باتوں سے) پاک ہے بلکہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت ہے سب اسی کے فرماں بردار ہیں ۔
بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَ اِذَا قَضٰٓى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جب کسی بات کا فیصلہ کرنا چاہتا ہے تو کہتا ہے ’’ہوجا‘‘ پس وہ ہوجاتی ہے
وَقَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَآ اٰيَةٌ ‌ ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِهِمۡؕ‌ تَشَابَهَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ
اور جو لوگ کچھ نہیں جانتے کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا ، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ۔اسی طرح کی باتیں وہ بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے تھے ، ان سب کے دل ملتے جلتے ہیں یقین کرنے والوں کے لئے ہم نے نشانیاں بیان کردی ہیں ۔
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَـقِّ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ۙ‌ وَّلَا تُسۡـَٔـلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِيۡمِ
کہ ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے دوزخ میں جانے والوں کے بارے میں تم سے پوچھا نہیں جائے گا
وَلَنۡ تَرۡضٰى عَنۡكَ الۡيَهُوۡدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡ‌ؕ قُلۡ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الۡهُدٰى‌ؕ وَلَٮِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَ الَّذِىۡ جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ‌ۙ مَا لَـكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍؔ
تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے یہود اور نصاریٰ جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی اختیار نہ کرلو کہدو کہ ہدایت تو بس خدا کی ہدایت ہے ۔ اور اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو تم کو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست یا مدد گار نہیں ہوگا
اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَتۡلُوۡنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ اُولٰٓٮِٕكَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ‌ ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ
جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اُسے اسطرح پڑھتے ہیں جس طرح کہ پڑھنے کا حق ہے یہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو لوگ اس کو نہیں مانتے پس وہی لوگ گھاٹے میں رہیں گے ،
يٰبَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَتِىَ الَّتِىۡٓ اَنۡعَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ وَاَنِّىۡ فَضَّلۡتُكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ
اے اولاد یعقوب یاد کرو میری وہ نعمت جس سے میں نے تم کو نوازا اور یہ کہ میں نے تم کو تمام جہاں والوں پر فضیلت بخشی
وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا لَّا تَجۡزِىۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَيۡـًٔـا وَّلَا يُقۡبَلُ مِنۡهَا عَدۡلٌ وَّلَا تَنۡفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ
اور ڈرو اس دن سے جب کوئی شخص کسی کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ اس سے قبول کیا جائے گاکوئی بدلہ اور نہ کسی کی سفارش کچھ کام دے گی اور نہ اسکی کسی طرح مدد کی جائے گی
وَاِذِ ابۡتَلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ‌ؕ قَالَ اِنِّىۡ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ‌ؕ قَالَ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ ‌ؕ قَالَ لَا يَنَالُ عَهۡدِى الظّٰلِمِيۡنَ
یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ کو انکے رب نے چند باتوں میں آزمایا تو وہ ان سب میں پورے اترے تو (خدا نے ) کہا میں تم کو لوگوں کا امام بناؤں گا (ابراہیم نے ) کہا (مجھے بھی اور) میری اولاد سے بھی (امام بنائیو) جواب دیا میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا
وَاِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَيۡتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمۡنًا ؕ وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰهٖمَ مُصَلًّى‌ ؕ وَعَهِدۡنَآ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَيۡتِىَ لِلطَّآٮِٕفِيۡنَ وَالۡعٰكِفِيۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ
او رہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کیلئے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا اور (حکم دیا کہ ) جس مقام پر ابراہیم ؑ نے عبادت کی اس کو جائے نماز بنالو اور ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کو ہم نے تاکید کردی کہ میرے اس گھر کو طواف اعتکاف ، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کیلئے پاک و صاف رکھیں
وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارۡزُقۡ اَهۡلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ قَالَ وَمَنۡ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ
اور یہ کہ ابراہیم ؑ نے دعا کی اے میرے رب اس جگہ کو امن کا شہر بنااور اس کے باشندوں میں سے جو لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائیں انہیں پھلوں سے رزق عطا فرما تو خدا نے فرمایا اور جس نے انکار کیاتو اس کو بھی تھوڑی سی متاع (دنیا )دوں گا مگر آخر کار اُسے دوزخ کی آگ کی طرف گھسیٹوں گا اور وہ بری جگہ ہے
وَاِذۡ يَرۡفَعُ اِبۡرٰهٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَيۡتِ وَاِسۡمٰعِيۡلُؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ‌ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ
اور یہ کہ ابراہیم اور اسماعیل جب اس گھر کی دیواروں کو اُٹھا رہے تھے تو یہ دعا بھی کرتے تھے اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بے شک تو سب کی سننے والا ہے اور (سب کا حال) جاننے والا ہے
رَبَّنَا وَاجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَيۡنِ لَـكَ وَ مِنۡ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسۡلِمَةً لَّكَ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبۡ عَلَيۡنَا ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ
اے پروردگار ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھ اور ہماری نسل سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رکھ ہمیں بتا اپنی عبادت کے طریقے اور ہم پر توجہ فرما بے شک تو توجہ کرنے والا اور بڑا مہربان ہے
رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَ يُزَكِّيۡهِمۡ‌ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ
اے ہمارے پروردگار ان لوگوں میں خود ان ہی میں سے ایک پیغمبر پیدا کر جو ان کو تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دےاور ان کے دلوں کو پاک کرے بے شک تو غلبہ والا اور حکمت والا ہے
وَمَنۡ يَّرۡغَبُ عَنۡ مِّلَّةِ اِبۡرٰهٖمَ اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ ‌ؕ وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِى الدُّنۡيَا ‌ۚ وَاِنَّهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيۡنَ
اور کون رد گردانی کرسکتا ہے ابراہیم کے دین سے بجز اس کے جو نہایت نادان اور احمق ہو ہم نے تو ابراہیم ؑ کو دنیا میں بھی منتخب کرلیا تھا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں ہوں گے
اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ‌ۙ قَالَ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ
جب ان سےانکے پروردگار نے کہا ’’ مسلم ہوجا‘‘ تو انہوں نے کہا میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں
وَوَصّٰى بِهَآ اِبۡرٰهٖمُ بَنِيۡهِ وَ يَعۡقُوۡبُؕ يٰبَنِىَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَـكُمُ الدِّيۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَؕ
اور ابراہیم ؑ نے اسی بات کی وصیت اپنی اولاد کو کی تھی اور یعقوب ؑ نے بھی(اپنی اولاد سے یہی کہا) اے میرے بچو ! اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کرلیا ہے ۔ پس مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا
اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَ اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُۙ اِذۡ قَالَ لِبَنِيۡهِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِىۡؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبَآٮِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ۖۚ وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ
بھلا کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب وفات پانے لگے تھے تو انہوں نے اپنے بچوں سے پوچھا تھا کہ تم کس کی عبادت کرو گے میرے بعد تو انہوں نے جواب دیا ہم ایک خدا کی عبادت کریں گے جو آپکا اور آپکے باپ دادا ابراہیم ، اسماعیل اور اسحاق کا معبود ہے اور ہم اسی کے فرمانبردارہیں
تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌ۚ وَلَا تُسۡـَٔـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ
یہ جماعت تھی جو گذر گئیاس کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا اور تم کو تمہارے اعمال کا تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھی
وَقَالُوۡا کُوۡنُوۡا هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰى تَهۡتَدُوۡا ‌ؕ قُلۡ بَلۡ مِلَّةَ اِبۡرٰهٖمَ حَنِيۡفًا ‌ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ
اور وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی ہوجاؤ تو ہدایت پاؤ گے ۔ کہدو کہ نہیں بلکہ ہم نے اختیار کی راہ ابراہیم کی جو ایک ہی طرف کے تھے اور وہ مشرکوں سے نہیں تھے
قُوۡلُوۡٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَآ اُنۡزِلَ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَمَآ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى وَعِيۡسٰى وَمَآ اُوۡتِىَ النَّبِيُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ
کہو ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کی کتاب پر جو ہماری طرف نازل کی گئی اور اس کتاب پر بھی جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئی اور جو کتابیں موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ پر نازل ہوئیں اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں ہم ان کے درمیان کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم خدا ہی کے فرمانبردار ہیں ۔
فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَآ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ فَقَدِ اهۡتَدَوْا ‌ۚ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا هُمۡ فِىۡ شِقَاقٍ‌ ۚ فَسَيَكۡفِيۡکَهُمُ اللّٰهُ ‌ۚ وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُؕ
پس اگر وہ بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح کہ تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت پا جائیں اور اگر منہ پھیر لیں تو وہ تمہارے مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمہیں خدا کافی ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے ۔
صِبۡغَةَ اللّٰهِ ‌ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبۡغَةً  وَّنَحۡنُ لَهٗ عٰبِدُوۡنَ
ہم نے تو اللہ کا رنگ اختیار کرلیا ہے اور خدا کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہوسکتا ہے اور ہم تو اسی کی بندگی کرنے والے ہیں
قُلۡ اَ تُحَآجُّوۡنَـنَا فِى اللّٰهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّکُمۡۚ وَلَنَآ اَعۡمَالُـنَا وَلَـكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡۚ وَنَحۡنُ لَهٗ مُخۡلِصُوۡنَۙ
کہہ دو کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ۔ ہم تو خالص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطَ كَانُوۡا هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰى‌ؕ قُلۡ ءَاَنۡـتُمۡ اَعۡلَمُ اَمِ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَتَمَ شَهَادَةً عِنۡدَهٗ مِنَ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ
(اے یہود و نصاری) کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ اسماعیل ، اسحٰق اور یعقوب اور ان کی والاد سب یہودی تھے یا نصرانی تھے ان سے پوچھو کہ تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ زیادہ جانتا ہے اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ کی گواہی کو جو اسکے پاس ہے چھپا دے تمہارے کرتوت سے اللہ غافل نہیں ہے ۔
تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌ۚ وَلَا تُسۡـَٔـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ
یہ جماعت تھی جو گذر چکی ، ان کو ان کے کئے کا بدلہ ملے گا اور تم کو تمہارے اعمال کا اور وہ جو کچھ کرتے تھے اس کے بارے میں تم سے سوال نہیں کیا جائے گا
سَيَقُوۡلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰٮهُمۡ عَنۡ قِبۡلَتِهِمُ الَّتِىۡ كَانُوۡا عَلَيۡهَا ‌ؕ قُل لِّلّٰهِ الۡمَشۡرِقُ وَالۡمَغۡرِبُ ؕ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ
احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان اس قبیلے سے کیوں منھ پھیرلئے جس پر وہ پہلے سے تھے آپ کہدیجئے کہ مشرق اور مغرب اللہ کے لئے ہیں ۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے پر چلاتا ہے
وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ؕ وَمَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَةَ الَّتِىۡ كُنۡتَ عَلَيۡهَآ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ يَّنۡقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ‌ؕ وَاِنۡ كَانَتۡ لَكَبِيۡرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيۡمَانَكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ
اور اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط(معتدل) بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخر الزماں ) تم پر گواہ بن جائیں اور جس قبلے پر تم پہلے تھے اسکو ہم نےاسلئے قبلہ مقرر کیا تھا تاکہ معلوم کرلیں کہ کون رسول کی اتباع کرتا ہے اورکون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور یہ امر (تحویل قبلہ لوگوں کو ) گراں گذرتا ہے مگر ان لوگوں کو نہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا اللہ تو لوگوں پر شفیق اور مہربان ہے
قَدۡ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِى السَّمَآءِ‌‌ۚ فَلَـنُوَلِّيَنَّكَ قِبۡلَةً تَرۡضٰٮهَا‌ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِؕ وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ ‌ؕ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ لَيَـعۡلَمُوۡنَ اَنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ
(اے محمدؐ) ہم آپکا آسمان کیطرف منھ اُٹھا کر دیکھنا دیکھ رہے تھے سو ہم اسی قبلہ کیطرف جس کو تم پسند کرتے ہو منہ کرنے کا حکم دیں گے۔ پس اپنا منہ مسجد حرام کیطرف پھیر لو ۔ تم لوگ جہاں کہیں رہو اسی کی طرف منہ کر لو اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ(نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہےاور یہ لوگ جو کام کررہے ہیں اللہ ان سے بے خبر نہیں ہے
وَلَٮِٕنۡ اَ تَيۡتَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَكَ‌ۚ وَمَآ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَهُمۡ‌ۚ وَمَا بَعۡضُهُمۡ بِتَابِعٍ قِبۡلَةَ بَعۡضٍؕ وَلَٮِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ‌ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ‌ۘ
اور اگر اہل کتاب کے پاس ساری نشانیاں بھی لالیں تب بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور تم بھی انکے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہو اور ان میں سے بعض ، بعض کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں ۔ اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے انکی خواہشات کی پیروی کی تو تمہارا شمار یقینا ظالموں میں ہوجائے گا
اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَعۡرِفُوۡنَهٗ كَمَا يَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَهُمۡؕ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنۡهُمۡ لَيَكۡتُمُوۡنَ الۡحَـقَّ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَؔ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ انکو اس طرح پہچانتے ہیں ۔جس طرح کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔ مگر ان میں سے ایک فریق جان بوجھ کر حق کو چھپا رہا ہے
اَلۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ
یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے پس تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے مت ہو
وَلِكُلٍّ وِّجۡهَةٌ هُوَ مُوَلِّيۡهَا ‌ۚ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَيۡرٰتِؕؔ اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يَاۡتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيۡعًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ
اور ہر ایک امت کیلئے ایک جہت ہے جسکی طرف وہ منہ پھیرتا ہے پس تم نیکیوں میں سبقت کرو تم جہاں کہیں ہوں گے اللہ تم سب کو جمع کرے گا بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔
وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِؕ وَاِنَّهٗ لَـلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ
اور تم جہاں سے نکلو (نماز میں )اپنا منہ مسجد حرام کے طرف کرلیا کرو اور وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور خداتمہاری کارروائیوں سے غافل نہیں ہے ۔
وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِؕ وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَڪُمۡ شَطۡرَهٗ ۙ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَيۡكُمۡ حُجَّةٌ اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِىۡ وَلِاُتِمَّ نِعۡمَتِىۡ عَلَيۡكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ۙ‌ۛ
اور تم جہاں سے نکلو مسجد حرام کی طرف (نماز میں )اپنا منہ کرلیا کرو ۔ اور تم جہاں بھی رہو اسی (مسجد حرام) کی طرف (نماز میں ) اپنا منہ کرلیا کرو تاکہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دیں البتہ ان میں سے جو ظالم ہیں (وہ ضرور الزام دیں گے ) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہیکہ میں تم پر اپنی نعمتیں پوری کردوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو
كَمَآ اَرۡسَلۡنَا فِيۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيۡکُمۡ وَيُعَلِّمُکُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِکۡمَةَ وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ؕ‌ۛ
جس طرح ہم نے تم میں تم ہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جوتم پر ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور تمہارے نفوس کا زکیہ کرتے ہیں اورتم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اورتم کو ایسی باتیں سکھاتے ہیں جو تم جانتے نہیں تھے
فَاذۡكُرُوۡنِىۡٓ اَذۡكُرۡكُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِىۡ وَلَا تَكۡفُرُوۡنِ
پس تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد کیا کروں گا اور میرا شکر ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ
اے ایمان والو صبر اور نماز کے ذریعہ مدد لیا کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ
اور جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جاتے ہیں ان کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ا ن کی زندگی کا شعور نہیں ہے
وَلَـنَبۡلُوَنَّكُمۡ بِشَىۡءٍ مِّنَ الۡخَـوۡفِ وَالۡجُـوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَۙ
اور ہم کسی قدر خوف ‘ بھوک ‘جانوں ‘مالوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو بشارت (خوشنودیٔ خدا کی ) دے دو
الَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ  ۙ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَؕ
ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
اُولٰٓٮِٕكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ‌ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ
یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانیاں اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں
اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآٮِٕرِ اللّٰهِۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَيۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِ اَنۡ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ؕ وَمَنۡ تَطَوَّعَ خَيۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيۡمٌ
بے شک (کوہ ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانۂ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان دونوں کا طواف کرنے میں کچھ گناہ نہیں اور جو کوئی نیک کام کرے تو اللہ بڑا قدر شناس اور دانا ہے۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ وَالۡهُدٰى مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِى الۡكِتٰبِۙ اُولٰٓٮِٕكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَۙ
جو لوگ ہمارے احکام اور ہدایتوں کو چھپاتے ہیں جو ہم نے نازل کی ہیں ۔ باوجود اسکےکہ ہم نے ان لوگوں کے سمجھانے کیلئے کتاب میں کھول کھول کر بیان کئے ہیں ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں ۔
اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاَصۡلَحُوۡا وَبَيَّـنُوۡا فَاُولٰٓٮِٕكَ اَ تُوۡبُ عَلَيۡهِمۡۚ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ
بجز ان لوگوں کے جو توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور حق بات بیان کردیں تو میں ان کو معاف کرتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں ۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ اُولٰٓٮِٕكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓٮِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ
جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرگئے ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے
خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ
وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں رہیں گے ، اُن سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں کچھ مہلت دی جائے گی
وَاِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ  ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِيۡمُ
(اے لوگو) تمہارا خدا ایک ہے اس رحمان اور رحیم کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے
اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَالۡفُلۡكِ الَّتِىۡ تَجۡرِىۡ فِى الۡبَحۡرِ بِمَا يَنۡفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَبَثَّ فِيۡهَا مِنۡ کُلِّ دَآ بَّةٍ وَّتَصۡرِيۡفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ
آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے اختلاف میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں لوگوں کو فائدہ دینے والی چیزیں لے کر چلتی ہیں اور بارش کے اس پانی میں جسے اللہ آسمان سے برساتا ہے اور اس کے ذریعہ زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں ، ہواؤں کے چلانے میں اور اُن بادلوں میں جو آسمانوں اور زمین کے درمیان تابع فرمان رہتے ہیں ، عقل رکھنے والوں کیلئے بے شمار نشانیاں ہیں
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡدَادًا يُّحِبُّوۡنَهُمۡ كَحُبِّ اللّٰهِؕ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ؕ وَلَوۡ يَرَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡٓا اِذۡ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَۙ اَنَّ الۡقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعَذَابِ
مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جو خدا کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر بناتے اور انکے ساتھ ایسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی کہ خدا کے ساتھ ہونی چاہئے ۔ لیکن جو لوگ مومن ہیں وہ تو اللہ ہی کو سب سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں اور اے کاش ظالموں کو عذاب کو دیکھنے کے وقت جو بات معلوم ہوتی وہ آج ہی معلوم ہوجاتی کہ ساری قوتیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۔
اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِيۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡا وَرَاَوُا الۡعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتۡ بِهِمُ الۡاَسۡبَابُ
جبکہ پیشوا اپنے پیروؤں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور وہ عذاب کو دیکھیں گے اور ان کے سارے تعلقات منقطع ہوجائیں گے
وَقَالَ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡا لَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنۡهُمۡ كَمَا تَبَرَّءُوۡا مِنَّا ؕ كَذٰلِكَ يُرِيۡهِمُ اللّٰهُ اَعۡمَالَهُمۡ حَسَرٰتٍ عَلَيۡهِمۡؕ وَمَا هُمۡ بِخٰرِجِيۡنَ مِنَ النَّارِ
پیروی کرنے والے کہیں گے اے کاش ! ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانا نصیب ہوتا تو ہم بھی ان سے اسی طرح بیزار ہو جاتے جس طرح وہ ہم سے بیزار ہوئے ہیں اسی طرح اللہ ان کے اعمال کو ان کے سامنے حسرت و پشیمانی بناکر دکھائے گا اور وہ دوزخ کی آگ سے نکلنے والے نہیں ہیں ۔
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوۡا مِمَّا فِى الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَيِّبًا  ۖ وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ
اے لوگو! زمین میں جو چیزیں حلال اور طیب ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو (کیونکہ) وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
اِنَّمَا يَاۡمُرُكُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَالۡفَحۡشَآءِ وَاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ
وہ تم کو بُرائی اور بے حیائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور تمہیں یہ بھی حکم دیتا ہے کہ تم اللہ کی نسبت وہ باتیں کہو جن کا تم کو علم نہیں ہے۔
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّبِعُ مَآ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ شَيۡـًٔـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اسکی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس چیز کی پیروی کرتے ہیں جس پر ہم نے باپ دادا کو پایا ۔ اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور نہ وہ سیدھے راستے پر ہوں
وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ کَفَرُوۡا كَمَثَلِ الَّذِىۡ يَنۡعِقُ بِمَا لَا يَسۡمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّنِدَآءً ؕ صُمٌّۢ بُكۡمٌ عُمۡـىٌ فَهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ
اور کافروں کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جو ایسی مخلوق کو پکار رہا ہے جو آواز اور پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے۔یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں (اس لئے ) یہ کچھ نہیں سمجھتے
يٰٓاَ يُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ
اے ایمان والو جوپاک چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں وہ کھاؤ اوراگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس کا شکر کرو
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡکُمُ الۡمَيۡتَةَ وَالدَّمَ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ‌ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ
اس نے تم پر حرام کردیا ہے مردار (مرا ہوا جانور ) اورخون اور سور کا گوشت اور وہ چیز جس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے ہاں جو شخص ناچار ہوجائے بشرطیکہ خدا کی نافرمانی نہ کرے اورحد سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں ہے بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ يَشۡتَرُوۡنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ۙ اُولٰٓٮِٕكَ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ وَلَا يُکَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَکِّيۡهِمۡ ۖۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ
جو لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب سے احکام اور آیتوں کو چھپاتے ہیں اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں ایسے لوگوں سے اللہ قیامت کے دن بات نہ کرے گا اورنہ انکو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کیلئے درد ناک عذاب ہے
اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالۡهُدٰى وَالۡعَذَابَ بِالۡمَغۡفِرَةِ‌ ۚ فَمَآ اَصۡبَرَهُمۡ عَلَى النَّارِ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے میں گمراہی خرید لی ہے اور بخشش کے معاوضے میں عذاب مول لے لیا ہے یہ جہنم کی آگ کو کیسے برداشت کریں گے
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَـقِّؕ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِى الۡكِتٰبِ لَفِىۡ شِقَاقٍۢ بَعِيۡدٍ
یہ اسلئے کہ اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آکر نیکی اورحق سے ) بہت دور ہوگئے
لَيۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓٮِٕکَةِ وَالۡكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ‌ۚ وَاٰتَى الۡمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِۙ وَالسَّآٮِٕلِيۡنَ وَفِى الرِّقَابِ‌ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ ‌ ۚ وَالۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا ۚ وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ
نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب (کو قبلہ سمجھ کر ان کی ) طرف منہ کرلو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ آدمی اللہ پر آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور خدا کی کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے اورمال عزیز ہونے کے باوجود (اللہ کی محبت میں ) دیتا ہو رشتہ داروں کو یتیموں کو محتاجوں کو ‘مسافروں کو اورسوال کرنے والوں کو اورغلاموں کو چھڑانے میں (خرچ کرے )اورنماز پڑھے اورزکواۃ دے ۔ اورجو لوگ وعدہ کریں تواس کو پورا کریں اور تنگ دستی میں بیماری میں اورجنگ کے وقت ثابت قدم رہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں ) سچے ہیں اوریہی لوگ پرہیز گار ہیں
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الۡقِصَاصُ فِى الۡقَتۡلٰى  ؕ الۡحُرُّ بِالۡحُـرِّ وَالۡعَبۡدُ بِالۡعَبۡدِ وَالۡاُنۡثَىٰ بِالۡاُنۡثٰىؕ فَمَنۡ عُفِىَ لَهٗ مِنۡ اَخِيۡهِ شَىۡءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَاَدَآءٌ اِلَيۡهِ بِاِحۡسَانٍؕ ذٰلِكَ تَخۡفِيۡفٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَرَحۡمَةٌ  ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰى بَعۡدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۚ
اے ایمان والو ! تم پر قصاص فرض کیا جاتا ہے مقتولوں کے بارے میں آزاد کے بدلے آزاد ‘غلام کے بدلےغلام اورعورت کے بدلے عورت ہاں اگر قاتل کو (مقتول کے) بھائی کی جانب سے (قصاص میں ) کچھ معاف کردیا جائے تو پسندیدہ طریق سے مطالبہ کرنا اور(قاتل کو )خوبی کے ساتھ ادا کرنا چاہئے یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے آسانی اور مہربانی ہے جو اسکے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے
وَ لَـكُمۡ فِى الۡقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّٰٓـاُولِىۡ الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ
اور اے عقل والو ! قصاص میں تمہارے لئے زندگانی ہے امید کہ تم (قتل سے ) بچو گے
كُتِبَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ اِنۡ تَرَكَ خَيۡرَۨا  ۖۚ الۡوَصِيَّةُ لِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِۚ حَقًّا عَلَى الۡمُتَّقِيۡنَؕ
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تواگر وہ کچھ مال چھوڑ رہا ہو تو وصیت کرجائے ماں باپ اور رشتہ داروں کیلئے (جو وارث نہ ہوں ) دستور کے مطابق خدا سے ڈرنے والوں پر ایک حق ہے
فَمَنۡۢ بَدَّلَهٗ بَعۡدَمَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَآ اِثۡمُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يُبَدِّلُوۡنَهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌؕ
پھر جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس کا گناہ ان ہی لوگوں پر ہوگا جو اس کو بدل دیتے ہیں اللہ تعالیٰ تو یقیناً سننے والا جاننے والا ہے
فَمَنۡ خَافَ مِنۡ مُّوۡصٍ جَنَفًا اَوۡ اِثۡمًا فَاَصۡلَحَ بَيۡنَهُمۡ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کیطرف سے طرف داری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو اوریہ شخص ان میں صلح کرادے تواس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ یقیناً بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے
يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ
اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بنو ۔
اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍؕ فَمَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ مَّرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَ‌ؕ وَعَلَى الَّذِيۡنَ يُطِيۡقُوۡنَهٗ فِدۡيَةٌ طَعَامُ مِسۡكِيۡنٍؕ فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَيۡرًا فَهُوَ خَيۡرٌ لَّهٗ ؕ وَاَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَيۡرٌ لَّـکُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ
(روزوں کے دن ) چند گنتی کے دن ہیں پھر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہوجائے یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی پوری کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھیں تو و ہ روزے کے بدلے مسکین کو کھانا کھلائیں اور جو خوشی سے نیکی کرے تو وہ اس کے حق میں بہتر ہے اگر تم سمجھو تو روزہ رکھنا ہی بہتر ہے
شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِۚ فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَـصُمۡهُ ؕ وَمَنۡ کَانَ مَرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَؕ يُرِيۡدُ اللّٰهُ بِکُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ وَلِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمۡ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ
روزوں کے دن رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جولوگوں کیلئے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اورجو(حق و باطل) کا فرق بتانے والا ہے ۔ پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کوپائے تو اسکو چاہئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے البتہ جوبیمار ہویا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے (قضا رکھ لے) اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اورسختی کرنا نہیں چاہتا تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اوراس کی بڑائی کا اظہار کرو ا س بات پر کہ تم کو ہدایت بخشی اورتاکہ تم اس کا شکر ادا کرو
وَاِذَا سَاَلَـكَ عِبَادِىۡ عَنِّىۡ فَاِنِّىۡ قَرِيۡبٌؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لِىۡ وَلۡيُؤۡمِنُوۡا بِىۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُوۡنَ
اگر تم سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو میں قریب ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تومیں اسکی دعا قبول کرتا ہوں پس ان کو بھی چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں (یہ حکم سنادو ) تاکہ وہ نیک راستہ پر آجائیں
اُحِلَّ لَـکُمۡ لَيۡلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآٮِٕكُمۡ‌ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّـكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّکُمۡ كُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡ وَعَفَا عَنۡكُمۡۚ فَالۡـــٰٔنَ بَاشِرُوۡهُنَّ وَابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَـكُمُ الۡخَـيۡطُ الۡاَبۡيَضُ مِنَ الۡخَـيۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ‌ؕ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ‌ۚ وَلَا تُبَاشِرُوۡهُنَّ وَاَنۡـتُمۡ عٰكِفُوۡنَ فِى الۡمَسٰجِدِؕ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ فَلَا تَقۡرَبُوۡهَا ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ
روزوں کی راتوں میں حلال کردیا گیا ہے اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے وہ تمہارا لباس ہیں اورتم ان کی پوشاک اللہ کو خبر ہوگئی کہ تم اپنے ہی حق میں خیانت کررہے تھے ۔ سو اس نے تمہاری توبہ قبول کرلی اورتم سے درگذر فرمایا اب تم اپنی بیویوں سے مباشرت کرو ۔ اوراللہ نے تمہارے لئے جو (اولاد)تجویز کردی ہے اسکی آرزو کرو کھاؤ اورپیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری شب کی سیاہ دھاری سے الگ نمایاں نظر آجائے پھر رات تک اپنا روزہ پورا کرو اورجب تم مسجد میں اعتکاف کرتے ہوتو اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو یہ اللہ کے حدود ہیں ان کے قریب بھی نہ پھٹکنا اسی طرح اللہ اپنی آیتوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ پرہیز گار بن جائیں
وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَتُدۡلُوۡا بِهَآ اِلَى الۡحُـکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِيۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ
اور تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے مت کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس اس کو پہنچاؤ تاکہ ظلم وزیادتی سے لوگوں کے مال کا کچھ حصہ جان بوجھ کر تم کھا جاؤ
يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَهِلَّةِ ‌ؕ قُلۡ هِىَ مَوَاقِيۡتُ لِلنَّاسِ وَالۡحَجِّ ؕ وَلَيۡسَ الۡبِرُّ بِاَنۡ تَاۡتُوا الۡبُيُوۡتَ مِنۡ ظُهُوۡرِهَا وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنِ اتَّقٰى‌ۚ وَاۡتُوا الۡبُيُوۡتَ مِنۡ اَبۡوَابِهَا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
لوگ آپ سے نئے چاندوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں کیلئے اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے اور حج کیلئے بھی یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کے دروازوں سے آیا کرو بلکہ نیکی اس کی ہے جو تقویٰ اختیار کرے اورگھروں میں آؤ تو دروازوں سے آؤ اوراللہ سے ڈرتے رہو شاید تم کو فلاح نصیب ہوجائے
وَقَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ
اورجولوگ تم سے لڑتے ہیں تم ان سے اللہ کی راہ میں لڑو مگر زیادتی نہ کرو بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ وَاَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ اَخۡرَجُوۡكُمۡ‌ وَالۡفِتۡنَةُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِۚ وَلَا تُقٰتِلُوۡهُمۡ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوۡكُمۡ فِيۡهِ‌ۚ فَاِنۡ قٰتَلُوۡكُمۡ فَاقۡتُلُوۡهُمۡؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ
اوران کو جہاں پاؤ قتل کردو اوران کو وہاں سے (اسی طرح ) نکال دو جس طرح کہ انہوں نے تم کو نکال دیا تھا (اس لئے کہ ) فتنہ قتل سے بھی زیادہ سخت ہے اورتم بھی نہ لڑو مسجد ِ حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں پس اگر وہ تم سے لڑیں تو پھر تم بھی ان کو قتل کردو (ایسے ) کافروں کی یہی سزا ہے
فَاِنِ انۡـتَهَوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ
پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے
وَقٰتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ لِلّٰهِ‌ؕ فَاِنِ انتَهَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ
اوران سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اوردین اللہ کے لئے ہوجائے اوراگر وہ باز آجائیں تو ظالموں کے علاوہ دوسروں پر زیادتی نہیں ہونی چاہئے
اَلشَّهۡرُ الۡحَـرَامُ بِالشَّهۡرِ الۡحَـرَامِ وَالۡحُرُمٰتُ قِصَاصٌ‌ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ
حرمت کا مہینہ ‘حرمت کے مہینے کا بدلہ ہے اورحرمت کی چیزیں ایک دوسرے کی عوض ہیں ۔ پس اگرتم پر کوئی زیادتی کرے تو جیسی زیادتی اس نے کی ہے اسی طرح کی زیادتی تم بھی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اوریقین کرلو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے اوراللہ کے راستے میں
وَاَنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَيۡدِيۡكُمۡ اِلَى التَّهۡلُكَةِ ۖ  ۛۚ وَاَحۡسِنُوۡا  ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ
خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو اوراحسان (کا سلوک ) کرو اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
وَاَتِمُّوا الۡحَجَّ وَالۡعُمۡرَةَ لِلّٰهِؕ فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡىِ‌ۚ وَلَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَكُمۡ حَتّٰى يَبۡلُغَ الۡهَدۡىُ مَحِلَّهٗ ؕ فَمَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ مَّرِيۡضًا اَوۡ بِهٖۤ اَذًى مِّنۡ رَّاۡسِهٖ فَفِدۡيَةٌ مِّنۡ صِيَامٍ اَوۡ صَدَقَةٍ اَوۡ نُسُكٍۚ فَاِذَآ اَمِنۡتُمۡ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَةِ اِلَى الۡحَجِّ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡىِ‌ۚ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِى الۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡؕ تِلۡكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ  ؕ ذٰلِكَ لِمَنۡ لَّمۡ يَكُنۡ اَهۡلُهٗ حَاضِرِىۡ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ
اوراللہ کے لئے حج اورعمرہ کو پورا کرو پس اگر تم راستے میں روک لئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو (کردو ) اوراپنے سروں کو اس وقت تک مت منڈاؤ جب تک کہ قربانی اپنے موقع پر نہ پہنچ جائے پھر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب اطمینان کی حالت میں آجاؤ تو جو تم میں سے حج کے وقت تک عمرہ سے فائدہ اٹھاناچاہے وہ جو قربانی میسر ہو (کرے ) اورجو قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھے تو وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اورسات روزے جب و ہ واپس ہو یہ پورے دس ہوئے یہ (حکم) اس شخص کیلئے ہے جن کے اہل وعیال مسجد حرام (مکے میں ) کے قریب نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
اَلۡحَجُّ اَشۡهُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ‌ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِيۡهِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَۙ وَلَا جِدَالَ فِى الۡحَجِّ ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يَّعۡلَمۡهُ اللّٰهُ ‌ؕؔ وَتَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَيۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰى وَاتَّقُوۡنِ يٰٓاُولِى الۡاَلۡبَابِ
حج کے مہینے معلوم اورمعین ہیں پس ان مہینوں میں جو شخص حج کی نیت کرلے پھر وہ نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ برا کام کرے اور نہ کسی سے جھگڑے اورتم جو بھی نیک کام کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے اور زاد راہ (سفر خرچ ) ساتھ لیجاؤ اورسب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے اوراے عقل والو ! مجھ سے ہی ڈرتے رہو
‌لَيۡسَ عَلَيۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکُمۡؕ فَاِذَآ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡکُرُوا اللّٰهَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَـرَامِ وَاذۡکُرُوۡهُ کَمَا هَدٰٮکُمۡ‌ۚ وَاِنۡ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الضَّآ لِّيۡنَ
تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے پروردگار کا فضل طلب کرو اورجب تم عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (مزدلفہ )میں اللہ کا ذکر کرو اوراس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تمہاری ہدایت کی اورتم اس سے پہلے یقیناً (ان طریقوں سے)ناواقفوں میں تھے
ثُمَّ اَفِيۡضُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسۡتَغۡفِرُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ
پھر جہاں سے اورلوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور اللہ سے بخشش طلب کرو بے شک اللہ بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے
فَاِذَا قَضَيۡتُمۡ مَّنَاسِكَکُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰهَ كَذِكۡرِكُمۡ اٰبَآءَکُمۡ اَوۡ اَشَدَّ ذِکۡرًا ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِى الدُّنۡيَا وَمَا لَهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ
پھر جب تم حج کے تمام ارکان پورے کر چکو تو اللہ کو یاد کرو جس طرح تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اوربعض لوگ ایسے ہیں جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو دنیا ہی میں دیدے ۔ توایسے لوگوں کیلئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں
وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً وَّفِى الۡاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ
اوربعض ان میں ایسے ہیں جو دعا کرتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی نعمت عطا فرما اورہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا
اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّمَّا كَسَبُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ
یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے اعمال کا حصہ ہے اوراللہ جلد حساب لینے والا ہے
وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ فِىۡٓ اَيَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ‌ؕ فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ ۚ وَمَنۡ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡه‌ِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰى ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّکُمۡ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ
اور(منیٰ ) میں قیام کے دوران جو گنتی کے دن ہیں اللہ کو یاد کرو اوراگر کوئی جلدی کرکے دو دن میں (مکہ ) چلا جائے تواس پر کوئی گناہ نہیں اورجو دیر کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں (یہ باتیں ) اس کیلئے ہیں جواللہ سے ڈرے اور اللہ سے ڈرتے رہو اوریقین کرو کہ تم سب اسکے پاس جمع کئے جاؤ گے
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّعۡجِبُكَ قَوۡلُهٗ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيُشۡهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِىۡ قَلۡبِهٖۙ وَهُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ
اورلوگوں میں سے کسی شخص کی گفتگو جو دنیاوی زندگی کے بارے میں ہوتی ہے آپکو اچھی معلوم ہوتی ہے اوروہ اپنے مافی الضمیر پر اللہ کو گواہ بھی بناتا رہتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِى الۡاَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيۡهَا وَيُهۡلِكَ الۡحَـرۡثَ وَالنَّسۡلَ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡفَسَادَ
اور جب وہ پیٹھ پھیرکرجاتاہےتوزمین میں دوڑدھوپ کرتا ہے تاکہ فتنہ انگیزی اورشرارت کرے کھیتی کو برباد کرے اورنسل کونابود کردے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتۡهُ الۡعِزَّةُ بِالۡاِثۡمِ‌ فَحَسۡبُهٗ جَهَنَّمُ‌ؕ وَلَبِئۡسَ الۡمِهَادُ
اورجب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تواپنے وقار کا خیال اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے تو ایسے شخص کیلئے جہنم ہی کافی ہے اورو ہ بہت بڑا ٹھکانہ ہے
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّشۡرِىۡ نَفۡسَهُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ‌ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوۡفٌ ۢ بِالۡعِبَادِ
اوربعض لوگ ایسے ہیں جو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اپنی جان بھی صرف کردیتے ہیں اور اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِى السِّلۡمِ کَآفَّةً  وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ‌ؕ اِنَّهٗ لَـکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ
اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ اورشیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔
فَاِنۡ زَلَـلۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡکُمُ الۡبَيِّنٰتُ فَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَکِيۡمٌ
پھر اگر تم تمہارے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی لڑکھڑا جاؤ تو جان لو کہ اللہ غالب اورحکمت والا ہے
هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمُ اللّٰهُ فِىۡ ظُلَلٍ مِّنَ الۡغَمَامِ وَالۡمَلٰٓٮِٕکَةُ وَقُضِىَ الۡاَمۡرُ‌ؕ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ
کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ اللہ ان کے پاس بادلوں کے سائبانوں میں فرشتوں کے ساتھ آئے اور معاملہ ختم ہوجائے تمام معاملات تو اللہ ہی کی طرف رجوع ہونے والے ہیں
سَلۡ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ كَمۡ اٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ اٰيَةٍۢ بَيِّنَةٍ ‌ؕ وَمَنۡ يُّبَدِّلۡ نِعۡمَةَ اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ
ذرا بنی اسرائیل سے پوچھئے کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں اور جو شخص اللہ کی نعمت کو اس کے پاس آجانے کے بعد بدل دے تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
زُيِّنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا وَيَسۡخَرُوۡنَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ‌ ۘ وَالَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ؕ وَاللّٰهُ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ
جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کردی گئی ہے اور وہ مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن جو لوگ پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے ۔ اور اللہ جسکو چاہتا ہے بے حساب رزقدیتا ہے
كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً  فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ وَاَنۡزَلَ مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ بِالۡحَـقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ النَّاسِ فِيۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ ‌ؕ وَمَا اخۡتَلَفَ فِيۡهِ اِلَّا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡهُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنٰتُ بَغۡيًا ۢ بَيۡنَهُمۡ‌ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ مِنَ الۡحَـقِّ بِاِذۡنِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ
پہلے تو سب لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (پھر وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے ) تو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے خوشخبری سنانے والے اور (برائیوں سے ) ڈرانے والے ۔ اور انکے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ وہ جن امور میں اختلاف کرتے تھے انکے درمیان فیصلہ کرے اور اس میں اختلاف بھی انہی لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی انکے پاس روشن دلیلں آجانے کے باوجود صرف آپس کی ضد کی وجہ سے تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے اللہ نے مومنوں کو اپنی مہربانی سے اس کی راہ دکھادی ۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ وَ لَمَّا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر ان لوگو ں کے سے واقعات نہیں آئے جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں ۔ ان کو سختیاں آئیں تکلیفیں پہنچیں اور وہ ہلا دئے گئے ۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور انکے ساتھ مومن لوگ بھی سب کے سب پکار اُٹھے کہ اللہ کی مدد (موعود) کب آنے والی ہے۔ آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کی مدد قریب ہی (آیا چاہتی) ہے
يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ مَاذَا يُنۡفِقُوۡنَ ؕ قُلۡ مَآ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ
اے پیغمبر لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں ۔ آپ کہدیجئے کہ جو مال تم کو خرچ کرنا ہے وہ والدین پر ، قریب کے رشتہ داروں پر یتیموں پر ، محتاجوں پر اور مسافروں پر (للہ) خرچ کرو اور تم جو بھی نیکی کا کام کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الۡقِتَالُ وَهُوَ كُرۡهٌ لَّـكُمۡ‌ۚ وَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡـــًٔا وَّهُوَ خَيۡرٌ لَّـکُمۡ‌ۚ وَعَسٰۤى اَنۡ تُحِبُّوۡا شَيۡـــًٔا وَّهُوَ شَرٌّ لَّـكُمۡؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ
(مسلمانو سنو) تم پر اللہ کے راستے میں لڑنا فرض کیا گیا ہے وہ تم کو ناگوار تو ہوگا اور ہوسکتاہے کہ ایک چیز تم کو ناگوار ہو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور (اسی طرح) ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کوپسند کرو اوروہ تمہارےلئےبُری ہو۔ اللہ جانتا ہے ، تم نہیں جانتے
يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الشَّهۡرِ الۡحَـرَامِ قِتَالٍ فِيۡهِ‌ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِيۡهِ كَبِيۡرٌ ‌ؕ وَصَدٌّ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَ کُفۡرٌ ۢ بِهٖ وَالۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ وَاِخۡرَاجُ اَهۡلِهٖ مِنۡهُ اَكۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰهِ ‌‌ۚ وَالۡفِتۡنَةُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ‌ؕ وَلَا يَزَالُوۡنَ يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ حَتّٰى يَرُدُّوۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ‌ؕ وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓٮِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ‌‌ۚ وَاُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ
(اے پیغمبر) لوگ پوچھتے ہیں حرمت والے مہینے میں لڑنا کیسا ہے ؟ آپ کہدیجئے کہ اس میں لڑنا بڑا (گناہ ) ہےاور اللہ کے راستے سے روکنا ، اللہ کے ساتھ کفر کرنا ، مسجد حرام میں جانے سے روکنا اور نکال دینااہل مسجد کو وہاں سے اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ (کی باتیں ) ہیں اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور یہ لوگ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تم کو تمہارے دین سے ہی پھیر دیں اگر ان کا بس چلے (خدانخواستہ) اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی ہی حالت میں مر جائے تو اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہوجائیں گے ایسے لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِۙ اُولٰٓٮِٕكَ يَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰهِؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ
جو لوگ ایمان لائے۔اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا یہی لوگ امیدوار ہیں اللہ کی رحمت کے اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے
يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ‌ؕ قُلۡ فِيۡهِمَآ اِثۡمٌ کَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثۡمُهُمَآ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا ؕ وَيَسۡـــَٔلُوۡنَكَ مَاذَا يُنۡفِقُوۡنَؕ  قُلِ الۡعَفۡوَ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَۙ
یہ لوگ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ آپ کہدیجئے کہ ان دونوں میں بڑے نقصان ہیں ۔اور لوگوں کیلئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصانات انکے فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں (کہ خدا کی راہ میں ) کتنا خرچ کریں ۔ آپ فرما دیجئے جو ضرورت سے زیادہ ہو اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے
فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِؕ وَيَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡيَتٰمٰىؕ قُلۡ اِصۡلَاحٌ لَّهُمۡ خَيۡرٌ ؕ وَاِنۡ تُخَالِطُوۡهُمۡ فَاِخۡوَانُكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعۡنَتَكُمۡؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ
تاکہ تم دنیا اور آخرت کے بارے میں سونچو اور آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔ آپ کہدیجئے کہ ان کی اصلاح بہتر ہے اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہنا (اکھٹا خرچ کرنا) چاہو تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون ہے اور اگراللہ چاہے تو تم کو مشکل میں ڈالدے بیشک اللہ غالب اور حکمت والا ہے
وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ‌ؕ وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ‌ۚ وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا ‌ؕ وَلَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكُمۡؕ اُولٰٓٮِٕكَ يَدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ  ۖۚ وَاللّٰهُ يَدۡعُوۡٓا اِلَى الۡجَـنَّةِ وَالۡمَغۡفِرَةِ بِاِذۡنِهٖ‌ۚ وَيُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ 
اے ایمان والو ۔ مشرک عورتوں سے نکاح مت کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں ۔ کیوں کہ مشرک عورت خواہ وہ تم کو بھلی ہی لگے ، اس سے مومن لونڈی بہتر ہےاور مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کے نکاح میں نہ دینا ۔اور مومن غلام ، مشرک مرد سےاگر چہ وہ تم کو بھلا لگے ، بہتر ہے یہ (مشرک) لوگوں کودوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنی مہربانی سے جنتاور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور اپنے احکام لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
وَ يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡمَحِيۡضِ‌ۙ قُلۡ هُوَ اَذًى فَاعۡتَزِلُوۡا النِّسَآءَ فِى الۡمَحِيۡضِ‌ۙ وَلَا تَقۡرَبُوۡهُنَّ حَتّٰى يَطۡهُرۡنَ‌‌ۚ فَاِذَا تَطَهَّرۡنَ فَاۡتُوۡهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيۡنَ وَيُحِبُّ الۡمُتَطَهِّرِيۡنَ
اور آپ سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں آپ کہدیجئے کہ وہ تو گندگی ہے پس ایام حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو ۔ اور جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤجس طریقے سے کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے یقینا اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک و صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے
نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّـكُمۡ فَاۡتُوۡا حَرۡثَكُمۡ اَنّٰى شِئۡتُمۡ‌  وَقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّکُمۡ مُّلٰقُوۡهُ ‌ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو جاؤ اور اپنے لئے (نیک عمل)آگے بھیجو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم اس سے ملنے والے ہو ۔ اور (اے پیغمبر) مومنوں کو خوشخبری سنادو
وَلَا تَجۡعَلُوا اللّٰهَ عُرۡضَةً لِّاَيۡمَانِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَتَتَّقُوۡا وَتُصۡلِحُوۡا بَيۡنَ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ
اور اپنی ایسی قسموں کے لئے خدا کے نام کو نشانہ نہ بناؤ جن سے تمہارا مقصد ،نیک سلوک کرنے ، پرہیزگاری اختیار کرنے اور لوگوں میں صلح و صفائی کے کام کرنے سے باز رہنا ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِىۡٓ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰـكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ
اللہ تمہاری لغو (بیکار) قسموں پرتم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جو قسمیں تم دل سے کھاتے ہو ان پر تم سے مواخذہ کرے گا اور اللہ بخشنے والا اور بُردبارہے۔
لِّـلَّذِيۡنَ يُؤۡلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآٮِٕهِمۡ تَرَبُّصُ اَرۡبَعَةِ اَشۡهُرٍ‌‌ۚ فَاِنۡ فَآءُوۡ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ
جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو انتظار کرنا چاہئےچار مہینوں تک ۔ اگر وہ(اس مدت میں ) قسم سےرجوع کرلیں توبےشک اللہ بخشنےوالا مہربان ہے
وَاِنۡ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ
اور اگر وہ طلاق کا ارادہ کرلیں تو بےشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے
وَالۡمُطَلَّقٰتُ يَتَرَ بَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ ‌ؕ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنۡ يَّكۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِىۡٓ اَرۡحَامِهِنَّ اِنۡ كُنَّ يُؤۡمِنَّ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ وَبُعُوۡلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ اِنۡ اَرَادُوۡٓا اِصۡلَاحًا ‌ؕ وَلَهُنَّ مِثۡلُ الَّذِىۡ عَلَيۡهِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ وَلِلرِّجَالِ عَلَيۡهِنَّ دَرَجَةٌ ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ
اور جن عورتوں کو طلاق دی گئیہے ان کو چاہئے کہ تین حیض تک اپنے آپ کو روک رکھیں اور ان کے لئے جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو کچھ پیدا کیا ہے اُسے چھپائیں اگر وہ ایمان رکھتی ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس مدت میں اگر ان کے شوہر ان سے تعلقات استوار کرنا چاہیں تو پھر وہیان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پرہے البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ غالب و حکمت والا ہے ۔
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ‌ فَاِمۡسَاكٌ ۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِيۡحٌ ۢ بِاِحۡسَانٍ‌ ؕوَلَا يَحِلُّ لَـکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّآ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ شَيۡـــًٔا اِلَّاۤ اَنۡ يَّخَافَآ اَلَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِ‌ؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيۡمَا افۡتَدَتۡ بِهٖؕ‌ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ فَلَا تَعۡتَدُوۡهَا ‌ۚ‌ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ
طلاق (صرف) دوبار ہے پھر یا تو شائستہ طریقے پر (ان کو ) روک رکھنا چاہئے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا چاہئے اور (چھوڑتے وقت) یہ جائز نہیں کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو ۔ بجز اس صورت کے کہ اگر میاں بیوی دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم نہ رکھ سکیں گے۔ اگر تم کو اندیشہ ہے کہ وہ دونوں اللہ کے حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ایسی صورت میں عورت اپنی رہائی کیلئے شوہر کو کچھ دے ڈالے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ۔ یہ اللہ کے حدود ہیں پس تم ان سے آگے مت بڑھواور جو لوگ اللہ کے حدود سے آگے بڑھ جاتے ہیں وہی ظالم ہیں
فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ ‌ؕ فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ اَنۡ يَّتَرَاجَعَآ اِنۡ ظَنَّآ اَنۡ يُّقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِ‌ؕ وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ
پس اگر شوہر (دو طلاق کے بعد تیسری) طلاق دے تو اس کے بعد جب تک وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے ۔ اس پہلے شوہر کے لئے حلال نہ ہوگی پھر اگر دوسرا شوہر بھی طلاق دے دے تو اگر یہ دونوں یہ خیال کرتے ہوں کہ وہ اللہ کے حدود قائم رکھ سکیں گے تو ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلینے میں کچھ مضائقہ نہیں ۔ یہ اللہ کے حدود ہیں جنہیں اللہ ان لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے جو دانش رکھتے ہیں
وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ سَرِّحُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ‌ وَلَا تُمۡسِكُوۡهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعۡتَدُوۡا‌ ۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ ‌ؕ وَلَا تَتَّخِذُوۡٓا اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا‌ وَّاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَمَآ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ الۡكِتٰبِ وَالۡحِكۡمَةِ يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو (دو مرتبہ) اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو یا تو انہیں حسن ِ سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا شائستہ طریقے پر ان کو رخصت کردو ۔ اور اس نیت سے ان کو کاح میں نہ روک رکھنا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو ۔ اور جو ایسا کرے گا اس نے گویااپنے آپ پر ہی ظلم کیا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور یاد کرو اللہ نے جو نعمت تم کو دی ہے اور تم پر کتاب اور حکمت کی باتیں جو نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔
وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡهُنَّ اَنۡ يَّنۡكِحۡنَ اَزۡوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَيۡنَهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ ذٰلِكَ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ ذٰلِكُمۡ اَزۡکٰى لَـكُمۡ وَاَطۡهَرُؕ‌ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں ، نکاح کرنے سے مت روکو اس حکم سےاس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے یہ تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ ترہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
وَالۡوَالِدٰتُ يُرۡضِعۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِ‌ لِمَنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ ‌ ؕ وَعَلَى الۡمَوۡلُوۡدِ لَهٗ رِزۡقُهُنَّ وَكِسۡوَتُهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفۡسٌ اِلَّا وُسۡعَهَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌ ۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوۡلُوۡدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ وَعَلَى الۡوَارِثِ مِثۡلُ ذٰلِكَ ۚ فَاِنۡ اَرَادَا فِصَالًا عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا ‌ؕ وَاِنۡ اَرَدْتُّمۡ اَنۡ تَسۡتَرۡضِعُوۡٓا اَوۡلَادَكُمۡ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا سَلَّمۡتُمۡ مَّآ اٰتَيۡتُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ
اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم)اس شخص کیلئے ہے جو رضاعت (دودھ پلانے) کی مدت (دو سال ) پوری کرنا چاہے ۔ دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمہ ہوگا۔کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دی جاسکتی ۔ نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے گا اور نہ باپ کو اس کے بچے کی وجہ سے تنگ کیا جائے گا، اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا مندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ حرج نہیں اگر تم اپنی اولاد کو (غیر عورت) سے دودھ پلوانا چاہو تو کچھ مضائقہ نہیں بشرطیکہ تم ان دودھ پلانے والیوں کو وہ دے دو جو تم نے دستور کے مطابق طئے کرلیا تھا ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔
وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡكُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا يَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّعَشۡرًا ‌‌ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا فَعَلۡنَ فِىۡٓ اَنۡفُسِهِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ
اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو ان کو چاہئے کہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک روک رکھیں جب یہ عدت پوری کرچکیں اور وہ اپنے حق میں صحیح طریقے سے جو کام کریں تو اس بارے میں تم پر کچھ گناہ نہیں اور اللہ تمہارے کاموں سے باخبر ہے۔
وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا عَرَّضۡتُمۡ بِهٖ مِنۡ خِطۡبَةِ النِّسَآءِ اَوۡ اَکۡنَنۡتُمۡ فِىۡٓ اَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمۡ سَتَذۡكُرُوۡنَهُنَّ وَلٰـكِنۡ لَّا تُوَاعِدُوۡهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ‌ؕ وَلَا تَعۡزِمُوۡا عُقۡدَةَ النِّکَاحِ حَتّٰى يَبۡلُغَ الۡكِتٰبُ اَجَلَهٗ ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِىۡٓ اَنۡفُسِكُمۡ فَاحۡذَرُوۡهُ ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ
اور اس میں بھی تم پر گناہ نہ ہوگا اگر تم (دوران عدت) کنائے اشارے میں نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش)اپنے دل میں پوشیدہ رکھو اللہ کو یہ معلوم ہے کہ تم ان سے(نکاح کا) ذکر کرو گے لیکن دستور کے مطابق کوئی اچھی بات کرنے کے سوا ، پوشیدہ طریقے پر ان سے (ایام عدت میں ) قول و قرارمت کرو اور نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا جب تک عدت پوری نہ ہوجائے اور جان لو کہ اللہ کو وہ سب معلوم ہے جو تمہارے دلوں میں ہے پس اس سے ڈرو اور جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا ہے اور تحمل والا ہے
لَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوۡهُنَّ اَوۡ تَفۡرِضُوۡا لَهُنَّ فَرِيۡضَةً  ۖۚ وَّمَتِّعُوۡهُنَّ ‌ۚ عَلَى الۡمُوۡسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الۡمُقۡتِرِ قَدَرُهٗ ‌ۚ مَتَاعًا ۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌‌ۚ حَقًّا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ
تم پر کچھ حرج نہیں اگر تم عورتوں کو انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ دے دو۔ یعنی مقدور والا اپنی مقدور کے مطابق اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے۔
وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيۡضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يَّعۡفُوۡنَ اَوۡ يَعۡفُوَا الَّذِىۡ بِيَدِهٖ عُقۡدَةُ النِّكَاحِ ‌ؕ وَاَنۡ تَعۡفُوۡٓا اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ؕ وَ لَا تَنۡسَوُا الۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ
اور اگر تم عورتوں کو انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن ان کامہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں (اور پورا پورا مہر دیدیں تو ان کو اس بات کااختیار ہے ) اور تمہارا معاف کردینا ہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور آپس میں احسان کرنے کو فراموش مت کرو بے شک اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
حَافِظُوۡا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الۡوُسۡطٰى وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ
محافظت کرو اپنی (تمام) نمازوں کی (عموماً) اور درمیان والی نماز کی (خصوصاً) اور اللہ کے آگے ادب و عاجزی سے کھڑے رہو ۔
فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُكۡبَانًا ‌‌ ۚ فَاِذَآ اَمِنۡتُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰهَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ
اگرتم کو ڈرو تو پیادہ پڑھ لو یا سوار پھر جب اطمینان اور امن ہوجائے تو اللہ کی یاد اس طریقے سے کرو ۔ جس طریقے کی اس نے تم کو تعلیم دی ہے جس سے پہلے تم ناواقف تھے ۔
وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا  ۖۚ وَّصِيَّةً لِّاَزۡوَاجِهِمۡ مَّتَاعًا اِلَى الۡحَـوۡلِ غَيۡرَ اِخۡرَاجٍ‌‌ ۚ فَاِنۡ خَرَجۡنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡکُمۡ فِىۡ مَا فَعَلۡنَ فِىۡٓ اَنۡفُسِهِنَّ مِنۡ مَّعۡرُوۡفٍؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَکِيۡمٌ
اور جو لوگ تم میں سے مرنے کے قریب ہوں اپنے بعد بیویاں چھوڑ جائیں تو لازم ہے کہ اپنی بیویوں کے واسطے وصیت کرجائیں کہ انکو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں پھر اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنی ذات کے معاملے میں جو چاہیں معروف طریقے سے کریں یعنی نکاح کرلیں تو تم پر کچھگناہ نہیں اور اللہ غلبہ والا اور حکمت والا ہے ۔
وَلِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ ۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ‌ؕ حَقًّا عَلَى الۡمُتَّقِيۡنَ
اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق کچھ نہ کچھ خرچ دینا چاہئے ۔ پرہیزگاروں پر یہ بھی حق ہے
كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـکُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ
اس طرح اللہ اپنے احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو ۔
اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَهُمۡ اُلُوۡفٌ حَذَرَ الۡمَوۡتِ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوۡتُوۡا ثُمَّ اَحۡيَاھُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰـكِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡکُرُوۡنَ
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اگرچہ ہزاروں کی تعداد میں تھے مگر موت کے ڈر سے گھروں سے باہر نکل پڑے تھے تو اللہ نے ان کو حکم دیا مرجاؤ ۔ پھر اللہ نے ان کو زندہ بھی کردیا بے شک اللہ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
وَقَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ
اور (اے مسلمانو) اللہ کے راستے میں جنگ کرو اور یقین رکھو کہ خدا سب کچھ سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔
مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا کَثِيۡرَةً  ‌ؕ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ وَ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ
ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی گناہ زیادہ دے گا اور اللہ ہی روزی کو تنگ بھی کرتا ہے اور وہی کشادہ بھی کرتا ہے اورتم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔
اَلَمۡ تَرَ اِلَى الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰى‌ۘ اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ قَالَ هَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَيۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ؕ قَالُوۡا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآٮِٕنَا ‌ؕ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ
کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کی ایک جماعت کاحال نہیں دیکھا جب کہ ان لوگوں نے اپنے پیغمبر سے کہا ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں ۔ پیغمبر نے کہا کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم پر قتال فرض کیا جائے اور تم نہ لڑو انہوں نے کہا کہ ہم خدا کی راہ میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم کو اپنے گھروں سے نکال دیا گیا اور بچوں سے جداکردیا گیا پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے
وَقَالَ لَهُمۡ نَبِيُّهُمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ بَعَثَ لَـکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِكًا ‌ؕ قَالُوۡٓا اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهُ الۡمُلۡكُ عَلَيۡنَا وَنَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡكِ مِنۡهُ وَلَمۡ يُؤۡتَ سَعَةً مِّنَ الۡمَالِ‌ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰٮهُ عَلَيۡکُمۡ وَزَادَهٗ بَسۡطَةً فِى الۡعِلۡمِ وَ الۡجِسۡمِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُؤۡتِىۡ مُلۡکَهٗ مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ
اور پیغمبروں نے ان سے (یہ بھی) کہاخدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرما دیا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکرہوسکتا ہے بادشاہی کے زیادہ مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس بہت سی دولت بھی نہیں ۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نے اس کو تم پر فضیلت دی ہے اور بادشاہی کے لئے منتخب فرمایا ہے اس نے اُسے علم بھی بہت بخشا ہے اور جسامت میں بھی وہ تم سے بڑھکرہے اللہ کو اختیار ہے کہ وہ اپنا ملک جسے چاہے دے اللہ وسعت والا اور جاننے والا ہے۔
وَقَالَ لَهُمۡ نَبِيُّهُمۡ اِنَّ اٰيَةَ مُلۡکِهٖۤ اَنۡ يَّاۡتِيَکُمُ التَّابُوۡتُ فِيۡهِ سَکِيۡنَةٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوۡسٰى وَاٰلُ هٰرُوۡنَ تَحۡمِلُهُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـکُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ
اور ان کے پیغمبر نے ان سے کہا کہ اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا (جس کو فرشتے اُٹھائے ہوں گے ) اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والا) سامان ہوگااورجس میں موسیٰ اورہارون کی آل کی چھوڑی ہوئی چیزیں بھی ہوں گی۔ اگر تم مومن ہو تو اس میں تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُـنُوۡدِۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبۡتَلِيۡکُمۡ بِنَهَرٍ‌ۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡهُ فَلَيۡسَ مِنِّىۡ‌ۚ وَمَنۡ لَّمۡ يَطۡعَمۡهُ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡٓ اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَةً ۢ بِيَدِهٖ‌‌ۚ فَشَرِبُوۡا مِنۡهُ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ ۙ قَالُوۡا لَا طَاقَةَ لَنَا الۡيَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَجُنُوۡدِهٖ‌ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يَظُنُّوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰهِۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً ۢ بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ
غرض جب طالوت فوجیں لیکر (بیت المقدس سے عمالقہ کی طرف) چلے تو انہوں نے ان سے کہا کہ اللہ ایک نہر پر تمہاری آزمائش کرنے والا ہے ۔ پس جو شحص اس ندی سے پانی پئے گاتو وہ مجھ سے نہیں ہوگا اور جو نہ پئے وہ میرا ہوگا ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے تو پی لے (مگر وہ جب نہر پر پہنچے) تو چند اشخاص کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور ان کے مومن ساتھی نہر کو پار کرگئے تو وہ کہنے لگے طاقت نہیں ہم کوْآج جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی لیکن جن لوگوں کو یقین تھا کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں انہوں نے کہا کہ بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ حاصل کرچکی ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
وَلَمَّا بَرَزُوۡا لِجَـالُوۡتَ وَجُنُوۡدِهٖ قَالُوۡا رَبَّنَآ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا وَّثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِيۡنَؕ
اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے میں آئے تو (خدا سے دعا کی) اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (جنگ میں ) ثابت قدم رکھ اور کافروں کی قوم پر فتح یاب کر
فَهَزَمُوۡهُمۡ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ۙ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَاٰتٰٮهُ اللّٰهُ الۡمُلۡكَ وَالۡحِکۡمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَآءُ ‌ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ
تو طالوت کی فوج نے اللہ کے حکم سے ان کو شکست دی اور قتل کر ڈالاداود نے جالوت کو اور اللہ نے ان کو بادشاہی اور دانائی عطا فرمائی اور جو کچھ چاہا وہ سکھادیا اور اگر اس طرح اللہ لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعہ ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن اللہ جہاں والوں پر بڑا مہربان ہے
تِلۡكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَـتۡلُوۡهَا عَلَيۡكَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ وَاِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ
یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں اور آپ بلا شبہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں
تِلۡكَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ‌ۘ مِنۡهُمۡ مَّنۡ كَلَّمَ اللّٰهُ‌ وَرَفَعَ بَعۡضَهُمۡ دَرَجٰتٍ‌ؕ وَاٰتَيۡنَا عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ الۡبَيِّنٰتِ وَاَيَّدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقۡتَتَلَ الَّذِيۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنٰتُ وَلٰـكِنِ اخۡتَلَفُوۡا فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ كَفَرَ‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقۡتَتَلُوۡا وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيۡدُ
یہ پیغمبر ہیں کہ جن میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے (چنانچہ) بعض وہ ہیں جن سےخدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے درجے(دوسرے امور میں )بلند کئے اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے روشن دلیلیں عطا کیں اور روح القدس (جبرئیل) کے ذریعہ انکی مددکی۔ اگر اللہ چاہتا تو انکے بعد آنے والے انکے پاس واضح نشانیاں آجانے کے بعد آپس میں ہرگز قتال نہ کرتے۔ لیکن انہوں نےآپس میں اختلاف کیاپس ان میں سے بعض ایمان